خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 354
خطبات طاہر جلدا 354 خطبه جمعه ۵ ارمئی ۱۹۹۲ء میں کسی اور دشمن کا نام معروف ہو یا نہ ہولیکن اسلامی دنیا میں مشرق سے مغرب تک دشمن کا ایک نام ایسا ہے جو ہر مسلمان کو معلوم ہے اور وہ ابو جہل کا نام ہے ایسا شدید معاند لیکن ایک مرتبہ ایک شخص فریاد لے کر آنحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ابو جہل نے میرا کچھ قرض دینا ہے اور وہ دیتا نہیں ۔ آپ نے حلف الفضول کیا ہوا ہے۔ آپ نے ایک زمانہ میں یہ قسم کھائی تھی کہ جب بھی کسی غریب اور بے کس کو مدد کی ضرورت ہو گی آپ آگے آئیں گے ، میں اس حلف الفضول کا حوالہ دیتا ہوں آیئے میری مدد کریں ۔ ایک لفظ کہے بغیر ، ذرا سے تردد کے بغیر آنحضور اس سمت روانہ ہوئے جہاں ابو جہل کے متعلق بیان کیا جاتا تھا کہ وہ بیٹھا ہوا ہوگا ، وہ کہیں مجلس یا کرتا تھا۔ پس آپ اُٹھ کر انہیں مجالس کی طرف چل پڑے اور جا کر سیدھا ابو جہل کو مخاطب کر کے کہا کہ اے فلاں ! یہ شخص ہے اس کے تو نے اتنے پیسے دینے ہیں۔ ٹال مٹول کرتے ہوئے بہت لمبا لگایا صلى الله عرصہ ہو گیا ہے اب اسے ادا کرو اور اس نے بغیر اعتراض کئے بغیر تردد کئے، بغیر بہانے کے اسی وقت رقم کی ادائیگی کے لئے احکام جاری کئے ۔ (سیرۃ ابن ہشام جلد ۲ صفحہ: ۱۳۴) جب آنحضور ﷺ وہاں سے روانہ ہو گئے تو اس کے ساتھیوں نے اسے شرمندہ کیا، اُسے ذلیل کیا کہ تم کیسے دشمن ہو ۔ ہمیں تو اس شخص کی مخالفت میں ایسے بھڑکاتے ہو کہ آگ لگا دیتے ہو اور آج وہ آیا ہے اور اس نے تم سے ایک بات کی ہے لیکن تمہاری مجال نہیں تھی کہ اس کا انکار کر سکو اور وہیں تابع فرمان کی طرح اس کی بات پر عمل کر دیا ۔ ابو جہل نے کہا کہ تم نے وہ نہیں دیکھا جو میں نے دیکھا ہے۔ عام حالات ہوتے تو میں اس شخص سے وہی سلوک کرتا جیسا میں ہمیشہ کرتا ہوں مگر جب یہ مجھے کہہ رہا تھا کہ اس شخص کا حق ادا کرو اور میرے دل میں بغاوت کے جذبات اُٹھ رہے تھے تو اس وقت میں دیکھ رہا تھا کہ جیسے دو مست اونٹ ہوں اور مجھ پر حملہ کے لئے تیار کھڑے ہوں ۔ ان کے منہ سے جھا گیں بہہ رہی ہوں اگر میں انکار کرتا تو مجھے نظر آ رہا تھا کہ یہ اونٹ مجھ پر پل پڑیں گے۔ یہ کیا واقعہ ہوا ؟ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تائید کا جو وعدہ ہے اور اپنے غلاموں کے حق میں جو وہ نشان دکھاتا ہے ان کی ایک مثال ہے۔ دشمن بھی ایسا جیسا ابو جہل لیکن آنحضرت یہ محض خدا کی خاطر اپنے ایفائے عہد کی خاطر ہر قسم کی جسمانی اور جانی خطرے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس کی طرف چل پڑے تھے ۔ اللہ نے اس کی ایسی قدر فرمائی کہ کشفاً ابو جہل کو دو اونٹ دکھائے جو مست اونٹ تھے اور جیسے حملہ کے لئے تیار بیٹھے ہوں ۔ صلى