خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 352 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 352

خطبات طاہر جلدا 352 خطبه جمعه ۱۵ رمئی ۱۹۹۲ء کر کے ان کا ذکر آیت کے اس حصہ میں فرمایا وَ مَا يُلَقَّهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ اس عظیم مقصد کو حقیقت میں پانے والا ہمارا محمد ﷺ ہے کیونکہ اسی صبر میں اسے حَظٍّ عَظِيمٍ عطا کیا گیا ہے اور حَظٍّ عَظِیمٍ تو چونکہ پوری طرح کسی ایک مضمون سے باندھا نہیں گیا اس لئے حَظٍّ عَظِيمٍ میں وہ سارا پچھلا مضمون آگیا ہے جو اس آیت کے شروع میں ہے اور اس پہلو صلى الله علي منا ہو گا بلکہ حَظٍّ عَظِيمٍ میں سے کچھ نہ کچھ سے ہمیں آنحضور مور ﷺ کی پیروی میں نہ صرف صبر سیکھنا ہوگا بلکہ ۔ حصہ تو پانا ہوگا ۔ اور اس کا پہلا حصہ تو یہ ہے کہ وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ داعی الی اللہ بنو گے تو تمہاری بات اچھی ہو گی ورنہ ساری باتیں بے کار اور بے معنی ہیں تم ساری عمر باتیں کرتے گزارو گے ان میں حسن پیدا نہیں ہوگا۔ ہاں اگر تم اللہ کی طرف بلانے والے ہو تو تمہارا کام بہت ہی حسین ہے بات کرنی ہے تو یہ کرو وَ عَمِلَ صَالِحًا مگر خالی اللہ کی طرف نہیں بلانا نیک اعمال کر کے دکھاؤ ۔ بتاؤ کہ جس کی طرف بلانے آئے ہو اس کے ساتھ تعلق ہے اللہ کے ساتھ تعلق ہو تو تمہارے اعمال میں پاک تبدیلی ہونی چاہئے، تمہارے اندرکشش ہونی چاہئے ، تمہارے اندر روز بروز تبدیلیاں رونما ہوتی رہنی چاہئیں کیونکہ خدا تعالی لامتناہی ہے اور اس سے تعلق والا کبھی ایک مقام پر نہیں رہا کرتا اس کی زندگی مسلسل ایک سفر ہے جو خدا کی طرف ہے اور کبھی بھی کسی حالت میں بھی آپ یہ نہیں کہہ سکتے آپ نے اپنا سفر مکمل کر لیا۔ پس یہ مضمون ہے جو اس آیت کریمہ میں بیان ہوا ہے اور جس کے متعلق بعد میں شہادت دی کہ وَمَا يُلَقَّهَا إِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيمٍ اس مضمون کو اپنے درجہ کمال تک محمد مصطفی ﷺ نے پہنچایا اور آپ نے ہر اس صفت سے بڑا حصہ پایا عروسة۔ ہے جو صفات اس آیت کریمہ میں بیان ہوئی ہیں ۔ پھر فرمایا اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ جو چیز اچھی ہے اس کے ساتھ بُری چیزوں کا دفاع کر ویعنی جب بھی کوئی تمہارے ساتھ بُرائی سے پیش آئے اس کا کرو بھی کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ اور نیکی کی بات کرو اور تبلیغ میں انسان کو روزمرہ اس چیز سے واسطہ پڑتا ہے۔ انسان روز مرہ ایسے دشمن کی باتیں سنتا ہے جن کو پیار اور محبت سے سچائی کی طرف بلایا جارہا ہے لیکن وہ آگے سے بیہودہ بات کرتے ہیں سخت کلامی سے پیش آتے ہیں ، تمسخر سے پیش آتے ہیں اور جہاں جہاں بھی ممکن ہو وہاں پھر وہ جبر اور تشدد سے بھی پیش آتے ہیں قتل کے بھی درپے ہو جاتے صلى الله