خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 346 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 346

خطبات طاہر جلداا 346 خطبه جمعه ۱۵ رمئی ۱۹۹۲ء صلى الله اور واقعہ میں نہیں جانتا کہ محمد مصطفی ﷺ کا حلیہ تفصیلا کیا تھا۔ (مسلم کتاب الایمان حدیث نمبر : ۳۲۱) پس دیکھیں کہ وہ اس آیت کریمہ کا کیسا زندہ ثبوت تھے کہ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَانَهُ وَلِی حَمِيمٌ جس طرح ہم کہتے ہیں اس طرح تم تبلیغ کر کے دیکھو اور ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ دشمنوں میں سے تمہیں حیرت انگیز طور پر محبت کے پر محبت کرنے والے وجود ملا وجود ملیں گے پس دشمنوں کو نظر انداز کرنا اور آنحضور ﷺ کی زندگی میں تو یہ معجزے اتنی دفعہ ہوئے ہیں اور اس کثرت سے ہوئے ہیں نہیں صلى الله) کہ ان کا کوئی شمار نہیں ہے سارے عرب کی بھی تو نفرت میں تقریباً وہی کیفیت تھی ۔ حضرت خالد بن ولید کو دیکھیں کیسے سخت دشمن تھے وہ ایک واقعہ جو اُحد میں گزرا ہے جس کا دکھ جب بھی اسے پڑھتے ہیں انسان کے دل میں اس طرح تازہ ہو جاتا ہے جیسے کل کا واقعہ ہو یعنی آنحضور زخمی ہو کر نڈھال ہو کر شہیدوں کی طرح زمین پر جا پڑے اور آپ کے اوپر دوسری لاشیں آگریں ایسا تکلیف دہ واقعہ ہے کہ جب بھی انسان پڑھے تو اس کی عجیب گداز کی کیفیت ہوتی ہے بھیگی آنکھوں کے بغیر یہ واقعہ پڑھا ہی نہیں جاتا اور اس واقعہ میں سب سے بڑا نمایاں کردار خالد بن ولید نے ادا کیا تھا۔ یہ وہ جرنیل تھا جس نے موقع کی نزاکت کو سمجھا اور معلوم کر لیا کہ مسلمانوں سے کیا غلطی ہوئی ہے اور کفار کے بھاگتے ہوئے لشکر کو ایک دم پلٹ دیا اُن کا رُخ بدل دیا اور اپنے سواروں کے ساتھ مسلمانوں کے عقب سے حملہ کر کے وہ فتح جو تقریباً مکمل ہو چکی تھی اسے وقتی طور پر ایک شکست میں بدل د صلى الله بدل دیا۔ یہ وہ خالد ہے لیکن جب وہ آ وہ آنحضور ﷺ کی محبت کے اسیر ہوئے جب آپ کے عشق کا تیران پر لگا تو ایسی کا یا بیٹی کہ اس کے بعد پھر تمام زندگی ہر جہاد میں اس شوق سے حصہ لیا کہ کاش میں بھی شہید ہوں لیکن یہ حسرت پوری نہ ہو سکی ۔ آپ نے اسلام کے لئے اس کثرت سے جہاد کیا ہے اور ایسی شاندار سپہ سالاری کی ہے کہ اسلام کے جہاد کے نام کے ساتھ ہی خالد بن ولید کا نام اچانک اُبھر کر سامنے آجاتا ہے لیکن ایسی حالت میں جان دی کہ بستر پر پڑے ہوئے ہیں جان کنی کی حالت تھی ساتھیوں سے کہا کہ میرے پیٹ سے کپڑا تو اُٹھاؤ۔ انہوں نے کپڑا اٹھایا تو کہا کوئی ایک انچ تو دکھاؤ جہاں زخموں کے نشان نہ ہوں ۔ میرا سارا جسم زخموں ۔ وں سے چور ہے اور داغدار ہے جانتے ہو میں نے یہ صلى الله عروسه زخم کیوں کھائے ؟ اس شوق میں کہ میں محمد مصطفی ﷺ کے دین کی خاطر جان دوں اور میں بھی شہیدوں میں شمار ہوں لیکن وائے حسرت کہ میرے مقدر میں یہ نہیں تھا اور آج بستر پر جان دے