خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 343
خطبات طاہر جلدا 343 خطبه جمعه ۵ ارمئی ۱۹۹۲ء صداقت کی جھولی میں آپڑے۔ پس جہاں تک عام تعلق کی بات ہے اس سے کوئی بھی کسی کو منع نہیں کرتا بلکہ قرآن کریم نے نصیحت فرمائی ہے کہ دنیا داری کے تعلقات میں تم ہر ایک سے تعلقات رکھو لیکن جہاں با مقصد تعلق ہے وہاں مقصد راہنمائی کرے گا کہ یہ تعلق کتنی دیر تک قائم رہنا چاہئے اور کہیں بے سود تعلق تو نہیں ہے۔ سود پس جو تعلق تبلیغ کی نیت سے رکھا جاتا ہے۔ اس میں ضروری ہے کہ انسان اس بات پر نظر رکھے کہ جس سے تعلق رکھا جا رہا ہے وہ وقت کو ضائع تو نہیں کر رہا وہ قریب آرہا ہے یا نہیں آرہا۔ اگر ایک شخص اپنی جگہ پر اٹکار ہے اور انسان اس کے ساتھ عمر گنوا دے تو اس کی عمر ضائع جائے گی صرف اس کی نہیں بلکہ اور بھی بہت سے لوگوں کی عمریں ضائع جا رہی ہیں جن کی طرف وہ توجہ دے سکتا تھا۔ پس جب ایک شکاری کا وقت ضائع جاتا ہے تو بہت سے نقصانات اس کو پہنچ رہے ہوتے ہیں ایسے شکار کے پیچھے لگا رہتا ہے جس کو چھوڑ کر دوسرا شکار اس کے ہاتھ آسکتا تھا مگر یہ روحانی شکار ہے۔ دنیا کے شکار میں تو یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک شکاری ایک شکار کے ساتھ لگ جائے تو باقی پرندوں کے لئے غنیمت ہے ان کی قسمت جاگ گئی کہ ایک بے وقوف شکاری غلط سمت میں چلا گیا لیکن وہ روحانی پرندے جو ابراہیم کے پرندے ہیں وہ تو زندہ کرنے کے لئے مارے جاتے ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے جب خدا سے شکار کا طریقہ سیکھا تھا تو یہی پوچھا تھا کہ مردوں کو کیسے زندہ کیا جاتا ہے؟ پس مومن کا شکار اگر چہ باتیں شکار کی ہی ہوں بالکل برعکس نتیجہ کے لئے کیا جاتا ہے۔ دنیا کا عام شکاری مارنے کے لئے شکار کرتا ہے اور مومن زندہ کرنے کے لئے شکار کرتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بھی یہی صفت بیان فرمائی گئی کہ جب بھی اللہ اور اس کے رسول تمہیں بُلا میں يُحْيِيكُمْ (الانفال: ۲۵) تاکہ صلى الله علوسه وہ تمہیں زندہ کریں تو اِسْتَجِيبُوا (الانفال: ۲۵) اس وقت ان کی آواز پر لبیک کہا کرو۔ پس جب میں شکار کی اصطلاح استعمال کرتا ہوں تو یاد رکھیں ہم نے زندہ کرنے کے لئے شکار کرنا ہے پس وہ شکار جو کسی آدمی کی غفلت کی وجہ سے زندگی سے محروم رہ گیا اور غلط توجہ کے نتیجہ میں عدم توجہ کا شکار ہو گیا اور اسی حالت میں اس کی جان نکل گئی اس کا گناہ بھی تو کچھ اس کے سر آئے گا اس لئے مومن کو اپنی زندگی کے اوقات کی بڑی تفصیل سے نگرانی کرنی ہوتی ہے اس کے وقت کی ایک قیمت ہے اس کے وقت کے لمحہ لمحہ کا ایک حساب ہے اور عام وقت کی طرح اس کا وقت نہیں ہے اسے