خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 337
خطبات طاہر جلد اا 337 خطبه جمعه ۱۸ مئی ۱۹۹۲ء کو یقین ہو کہ بچہ ہلاک کر دیا جائے گا تب بھی تاوان نہیں دے سکتے ۔ یہاں تک ظلم پہنچ گیا ہے اور علماء کا تجزیہ یہ ہے کہ یہ ساری تباہیاں اسی لئے ہیں کہ پاکستان کی حکومت شریعت کا کا قانون جاری نہیں کرتی۔ اگر شریعت کا قانون جاری کر دے تو ہماری قوم بچ جائے گی اور کیونکہ شریعت کا قانون جاری نہیں کرتی اسی لئے خدا تعالیٰ بندوں کو حکم دے رہا ہے تم سفاک، ظالم، بد خلق، بدطنیت ہر لحاظ سے بدیوں میں ڈوب جاؤ ، سب کچھ ہو جاؤ سوائے نیکی کے ہر راہ اختیار کرلو۔ یہ ان کی عقلیں بتا رہی ہیں۔ یہ عجیب عقلیں ہیں جو ان کو یہ سمجھا رہی ہیں کہ اصل ہلاکت کی یہ وجہ ہے۔ حالانکہ جو آیات میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی تھیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ (هود: ۱۱۸) فرمایا ہے اگر ہمارے عذاب سے بچنا ہے کسی بستی نے تو ان کے اہل کو مُصْلِحُونَ ہونا پڑے گا۔ یہ نہیں فرمایا کہ شریعت کا قانون جاری کرنا پڑے گا۔ اگر لوگ بد بخت ہیں ، لوگ گندے ہیں، ظالم ہیں ،سفاک ہیں تو شریعت کا قانون کیسے ان کو بچا سکتا ہے۔ شریعت کا قانون تو جاری ہو چکا ہے۔ ان بے وقوفوں کو یہ بھی سمجھ نہیں آرہی کہ انہوں نے کیا جاری کرنا ہے۔ وہ تو چودہ سو سال پہلے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ پر نازل ہو کر جاری ہو چکا ہے اور اس قانون پر عمل کرنے سے دنیا کی کوئی حکومت روک نہیں رہی۔ کیا پاکستان کی حکومت نے یہ قانون بنالیا ہے کہ جب تک ہم شریعت کو نافذ نہ کر لیں کسی مسلمان نے سچ نہیں بولنا کسی مسلمان نے حسن خلق سے کام نہیں لینا ہر مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ ہر قسم کی بے حیائیوں میں مبتلا ہو جائے ، شرابیں پئے ، ڈا کے مارے، غریبوں کے مال ضبط کرے معصوم بچوں کو ہلاک کرے ہر قسم کی بدامنی پھیلانے کی تمام کارروائیوں میں مصروف ہو جائے کیونکہ ہم نے ابھی شریعت کے نافذ ہونے کا فیصلہ نہیں کیا۔ کتنی بیوقوفوں والی بات ہے شریعت ملاں نے نافذ کرنی ہے؟ شریعت تو اللہ نافذ فرما چکا اور ہر مسلمان پر شریعت پر عمل فرض ہو چکا ہے اور کوئی حکومت کسی مسلمان کو روک نہیں سکتی صرف احمدیوں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے یعنی شریعت کے نفوذ کی خبر ان کو تو ہوئی نہیں احمدیوں کو ہوئی ہے۔ وہ بیچارے شریعت پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور حکومت کہتی ہے کہ نہیں ہم نے شریعت پر عمل نہیں کرنے دینا اور جو عمل نہیں کرتے ان کو اگر زندہ بھی جلائیں گے تو وہ نہیں کریں گے اور ملاں یہ کہتا ہے کہ نہیں ڈنڈا چلاؤ گے تو شاید ہی عمل کر لیں اور اسی وجہ سے