خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 335
خطبات طاہر جلداا 335 خطبه جمعه ۱۸ مئی ۱۹۹۲ء کس قدر راتوں کو اٹھ کر گڑگڑاتے تھے اور دردناک دعائیں کرتے تھے مگر لوگوں کی بھلائی میں اور ان کی خاطر کہ خدا اس قوم کو بچالے ۔ پھر فرمایا۔ ہے ایک عالم مر رہا ہے تیرے پانی کے بغیر اے خدا! پیاس سے مرا جا رہا ہے تمام عالم ۔ آگے پھر فرماتے ہیں کہ ایک عالم مر گیا ہے تیرے پانی کے بغیر پھیر دے اے میرے مولی اس طرف دریا کی دھار ( در ثمین صفحہ : ۱۲۸) بنی نوع انسان کیلئے جو ہم و غم ہے اس میں اگر شدت پیدا ہو اور انسان گہری تکلیف محسوس کر لے دوسرے کیلئے تو اس سے دعاؤں میں ایک طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور اگر صرف اپنی نیک نامی کا فکر رہے تو دعا ئیں خواہ کتنے زور شور سے کی جا رہی ہوں اور دعائیں خالی جانے والی، خطا جانے والی تیروں کی طرح ہوتی ہیں ۔ پس آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں کو اگر گہری نظر سے پڑھیں تو ان میں حیرت انگیز طور پر ہمارے ان مسائل کا حل موجود ہے جو ہمیں لا ینحل دکھائی دیتے ہیں معلوم ہوتا ہے ان کا کوئی حل نہیں ۔ ہم نے کوششیں بھی کر دیں ، ہم نے دعا ئیں بھی کرلی ہیں پھر بھی کوئی نتیجہ پیدا نہیں ہوتا۔ پس داعی الی اللہ کے دل میں اگر بنی نوع انسان کی سچی ہمدردی اور پیار ہے اور جن کیلئے دعا کرتا ہے ان کی ہلاکت کیلئے وہ خود اپنے آپ کو ہلکان کر رہا ہے۔ تو پھر یقین جانیں اس کی دعائیں صلى الله عروسة ۔ ضرور رنگ لائیں گی۔ جس طرح پہلے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے زمانے میں وہ معجزات دکھا چکی ہیں اس زمانے میں بھی دکھائیں گی۔ لیکن اس میں مزید اس حکمت کو شامل کر لیں کہ ہمیشہ ہواؤں کے رخ پر چلنے والوں کی علوس و رفتار ہواؤں کے مخالف چلنے والوں سے تیز ہوا کرتی ہے۔ آپ کی دعا اگر ہلکے چلنی والی ہے تیز ہوا میں اگر شامل کر لیں تو وہ بھی تیز رفتار ہو جائے گی۔ تو اپنی دعاؤں کو مقبول بنانے کا ایک یہ طریقہ ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے جو ہمیشہ کیلئے ابدالاباد تک بنی نوع انسان کیلئے اپنی امت کیلئے دعائیں کی ہیں ان کا حوالہ دے کر اپنی دعاؤں کو ہمیشہ ان میں شامل کر لیا کریں اور ان کے ساتھ آپ کی دعاؤں میں ایک نئی قوت اور تیز رفتاری رونما ہوگی جو اس سے پہلے آپ کے مشاہدے میں کبھی نہیں آئی ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعاؤں کا ذکر کرتے ہوئے الى الابد کا لکھا