خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 333 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 333

خطبات طاہر جلدا 333 خطبه جمعه ۱۸ مئی ۱۹۹۲ء میں اتر کر حقائق و معارف کو پیش فرما رہا ہے۔ اب سنئے کہ وہ آیات جن کی میں نے تلاوت کی تھی اور جو مضمون بیان کیا تھا۔ ان کا صلى الله آنحضرت ﷺ کی دعا سے کیا تعلق تھا اور ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ۔ دو ۔۔۔ وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں عجیب ماجرہ گزرا کہ لاکھوں مردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے ۔۔۔“ 66 وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں کیسا خوبصورت کلام ہے بیابانی ملک میں صحرائی ملک ہے جس میں کچھ اُگتا نہیں، نہ پانی ہے نہ زندگی کے آثار ہیں ۔ وو ۔۔۔ بیابانی ملک میں عجیب ماجرہ گزرا کہ لاکھوں مردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں ایک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔ کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا ؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی تھا؟ اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھی جنہوں نے دنیا میں شور مچا دیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس اُمی بے کس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں ۔“ 66 وہ اتنی جس کو دنیاوی کوئی علم نہیں ہے بے کس و بے بس ہے ساری قوم اس کو چھوڑ بیٹھتی ہے اس کی ہلاکت کے درپے ہے کیسے ممکن تھا وہ یہ حیرت انگیز معجزات دکھا تا دنیا کو۔ اس کی فانی فی اللہ کی دعائیں ہی تو تھیں اور انہوں نے دنیا میں ایک شور مچادیا۔ اللهم صل و سلم و بارک علیه و آله بعدد همه و غمه وحزنه لهذه الامة و انزل عليه انوار رحمتك الى الابد اے اللہ سلامتی بھیج اور درود بھیج اور برکتیں بھیج اس وجود پر اور اس کی آل پر اتنی برکتیں اور اتنی سلامتیاں بھیج که بعدد همه و غمه وحزنه لهذه الامة - جتنا اس کو اس امت کیلئے غم تھا ، دکھ تھا اور ان غموں اور دکھوں میں امت کی خاطر ہلکان ہوا کرتا تھا ، جس شدت سے اس کے غم تھے اور جس کثرت سے اس کے غم تھے، اسی کثرت اور اسی شدت کے ساتھ اس کی امت پر رحمتیں نازل فرما اور اس پر ہمیشہ رحمتیں نازل فرماتارہ۔ کتنی عجیب دعا ہے آج کے داعی الی اللہ کیلئے اس سے بڑا کامیابی