خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 324
خطبات طاہر جلدا 324 خطبه جمعه ۱۸ مئی ۱۹۹۲ء اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ مومنوں کیلئے تو حَقٌّ بھی ہے مَوْعِظَہ بھی ہے اور ذکری بھی ہے لیکن وہ لوگ جو بہر حال ایمان نہیں لائیں گے۔ ان سے کہہ دے اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ تم اپنی جگہ کوششیں کرتے رہو إِنَّا عُمِلُونَ ہم بھی تو مسلسل کوشش میں مصروف ہیں۔ وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ تم بھی انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرنے والے ہیں۔ وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ یہ اللہ ہی کیلئے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ابھی پردہ غیب میں ہے وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ اور امر بالآخر اسی کی طرف لوٹنے والا ہے سے تمام تر ہر قسم کا امر بالآخر خدا ہی کی طرف لوٹنے والا ہے۔ فَاعْبُدُهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ اے محمد ﷺ ظاہر کا خطاب شروع ہو گیا۔اے محمد فاعْبُدُهُ اللہ کی عبادت کر وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ اور اللہ ہی پر توکل کر۔ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ تیرا رب اس بات سے غافل نہیں ہے جو تم سب لوگ کرتے ہو۔ صلى الله صلى الله عروسه اس میں بہت ہی لطیف ضمائر کی تبدیلی ہے۔ واحد کا صیغہ حضرت اقدس محمد مصطفی کو خطاب کرتے ہوئے چلتا ہے فَاعْبُدُهُ سے لے کر ۔ فَاعْبُدُہ تو اس کی عبادت کر وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ اور اسی پر توکل کر وَ مَا رَبُّكَ اب تیرا رب غافل نہیں ہے عَمَّا تَعْمَلُونَ یہ نہیں فرمایا کہ اس چیز سے جو تو کرتا ہے عَمَّا تَعْمَلُونَ جو تم سب لوگ کرتے ہو۔ اگر اس میں کوئی انذار کا پہلو ہے تو وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ پر اطلاق نہیں پاتا۔ اگر کوئی مخفی ناراضگی کا اظہار عَمَّا تَعْمَلُونَ میں ہورہا ہے تو یہ نہ سمجھو کہ خدا غافل ہے۔ یہی رنگ ہے اس عبارت کا کہ کچھ خفگی کے آثار بھی پائے جاتے ہیں تو اس سے حضرت محمد مصطفی ﷺ کو بچانے کیلئے اچانک جمع کا صیغہ استعمال صلى الله فرمالیا اور واحد کا صیغہ جس میں اپنائیت چل رہی تھی، پیار کا اظہار ہورہا تھا اسے ترک فرما دیا۔ یہ وہ آیات ہیں اُس رکوع کی آخری آیات جس کی میں نے تین جمعہ پہلے تلاوت کی تھی اور اسی مضمون مون کو میں آگے بڑھا رہا ہوں ۔ یہ بات اس سے پہلے بیان ہو چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ جس پر رحم فرمائے اسے بچا لیتا ہے اور مصلحین کو بچاتا ہے اور مصلحین میں سے بھی وہ جن کو خدا رحم کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ان کے اندر بعض ایسی باتیں پائی جاتی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں سے صرف نظر فرماتا ہے اور ان سے بخشش کا سلوک فرماتا ہے۔ ہر شخص رحم ہی سے بچایا جائے گا اپنے زور بازو سے کوئی بچایا نہیں جا سکتا لیکن رحم بچانے پر مستعد اور لوگ نہ بچنے پر کوشاں ۔ یہ مضمون ہے جو اس رکوع