خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 316 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 316

خطبات طاہر جلداا 316 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۹۲ء میں آپ کو حضرت عیسی کا معمولی سا ذ کر نظر آتا ہے اور مؤرخ جب اس زمانہ کی تار زمانہ کی تاریخ لکھتا ہے تو اس کو عیسائیوں کا کوئی خاص کردار دکھائی نہیں دیتا۔ سینکڑوں سال کے بعد وہ اس لائق ہوتے ہیں کہ ان کو تاریخ کا حصہ بنایا جائے لیکن قرآن کریم نے فرمایا تھا کہ یہی لوگ وارث ہوں گے۔ پس وہ عیسی علیہ الصلوٰۃ والسلام جو بالکل بے طاقت اور نہتے تھے اور اپنے دشمنوں کے مقابل پر کچھ بھی کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے چند ساتھیوں کو پیچھے چھوڑ کر گئے لیکن اب دیکھیں کہ عیسائیت ساری دنیا میں کتنے وسیع علاقوں کی وارث بنائی گئی ہے۔ تو یہ جو وراثت کا مضمون ہے یہ بہت گہرا ہے اور بہت سچا ہے حضرت کرشن اور حضرت رام چندر کے ماننے والے ہندوستان کے وارث بنا دیئے گئے ، حضرت زرتشت کے ماننے والے فارس کے وارث بنادئے گئے ۔ حضرت کنفیوش کے ماننے والے چین کے وارث اور دوسرے مشرقی ممالک کے وارث بنائے گئے ۔ تو اگر وراثت کے نقطہ نگاہ سے آپ تاریخ پر نظر ڈالیں تو وہی لوگ وارث ہیں جو اپنے زمانہ میں اس لائق ہی نہیں سمجھے جاتے تھے کہ تاریخ ان کا ذکر کرے اور اگر کرتی تھی تو بہت ہی حقارت کے ساتھ بالکل معمولی سا ذکر کہ سنا ہے کنفیوشس بھی ایک بادشاہ کے سہارے ہوتا تھا اس کے دربار سے لڑکا ہوا ایک شخص تھا یا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام تھے جن کا یہ ذکر چلتا ہے۔ قرآن کی تاریخ دیکھیں کتنی سچی اور کتنی قطعی ہے۔ اس کی زندہ شہادت ہے سارا عالم اس بات کا گواہ ہے کہ وراثت نیکوں اور کمزوروں کو عطا کی جاتی ہے۔ پس مُصْلِحُونَ کے ساتھ وراثت کا تعلق ہے اگر آپ نے اس دنیا کا وارث بننا ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ کی تقدیر نے آپ کو وارث بنانے کے لئے کھڑا کیا ہے تو آپ کو لازما مصلح ہونا پڑے گا اور مصلح ہونے کے لئے پہلے اندرونی اصلاح کرنی ہوگی اور پہلے سے مراد ہے کہ اولیت اس کو دینی ہو گی ورنہ دوسرے درجہ پر ساتھ ہی ساتھ باقی دنیا کی اصلاح کے لئے بھی آپ اُٹھ کھڑے ہوں ۔ دعوت الی اللہ میں مصروف ہوں اور اپنے بچوں اور بڑوں کی تربیت میں مصروف ہوں تو دیکھیں خدا کی تقدیر کس طرح آپ کے لئے عظیم الشان پ کے لئے عظیم الشان کام دکھائے گی ۔ آج اگر کوئی احمدی یہ دعویٰ کرے کہ آئندہ وہ دنیا کا وارث ہو گا اور مستقبل اس کے ہاتھوں میں دیا گیا ہے تو ساری دنیا اسے پاگل سمجھے گی کہ یہ کتنے بے وقوف لوگ ہیں کتنے جاہل ہیں۔ ان کی کسی ملک میں بھی کوئی حیثیت نہیں اور مستقبل کا مالک بننے کا دعوی کرتے ہیں ایک دفعہ ایک Correspondent نے مجھ سے یہ سوال شروع کئے اور وہ اسی