خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 308
خطبات طاہر جلد !! 308 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۹۲ء معنوں میں لمبا کر دیتا ہے کہ مصلحین کو خوب موقع دیتا ہے اور قوم کو بھی خوب موقع دیتا ہے کہ صورتحال سے فائدہ اُٹھا کر اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کریں۔ پس کسی قوم کو بچانا ہو تو محض دُعا ئیں کام نہیں آئیں گی۔ دعاؤں کے ساتھ تدبیر کا ایک مضمون ہے جو ساتھ کے ساتھ چلتا ہے اور ضروری ہے کہ تدبیر کو اس کی انتہاء تک پہنچایا جائے ۔اس کے ساتھ پھر دُعاؤں کو بھی انتہاء تک پہنچایا جائے ۔ یہ دونوں قوتیں ایسی ہیں جو مل کر یقیناً قوموں کی کایا پلٹ سکتی ہیں۔ یہ ایسی قوی طاقتیں ہیں کہ جس کے نتیجہ میں پھر قوموں کی تقدیر میں بدلتی ہیں۔ مردے زندہ ہو جاتے ہیں۔ حیرت انگیز روحانی انقلاب بر پا ہوتے ہیں۔ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے زمانہ میں اس آیت کا زندہ نقشہ اس شان سے دکھائی دیا اعلي صلى الله ہے کہ اس سے پہلے کبھی نظر نہیں آیا تھا۔ نہ آئندہ کبھی نظر آ سکتا ہے۔ آنحضور ﷺ نے کوششوں کو انتہاء ۔ تک پہنچا دیا اور دعاؤں کو بھی انتہاء تک پہنچا دیا اس کے نتیجہ میں دیکھتے دیکھتے مردہ بستیاں زندہ ہونی شروع ہوئیں اور ساری قوم کی کایا پلٹ گئی اور حیرت انگیز روحانی انقلاب برپا ہوا جس کا اثر پھر صدیوں تک جاری رہا ہے۔ آج بھی اس کا فیض دنیا میں جاری وساری ہے اگر چہ اس شان کے ساتھ وہ فیض دکھائی نہیں دیتا۔ امت مسلمہ گر کر خواہ کسی بھی گراوٹ کے مقام تک پہنچ گئی ہو آنحضرت یا اے کی تعلیم کی پیروی اور دعاؤں کی برکت سے اپنے مقابل پر دوسری امتوں کی نسبت ان کے دلوں میں کم شقاوت ہے۔ ان میں نیکی کا جو پانی ہے وہ بہت گہر انچے نہیں گیا۔ تھوڑا سا کھودنے سے پھوٹ پڑتا ہے اور بڑی بھاری تعداد ایسی ہے جو فطرتاً نیک ہے اور اس کے نتیجہ میں اگر ان پر کوشش کی جائے تو باقی قوموں کی نسبت ان پر کوشش کرنا زیادہ مفید ہے پس خصوصیت سے وہ احمدی جو پاکستان میں ہونے والے لمبے مظالم سے بہت دکھی ہیں اور بعض دفعہ بد دعا کی طرف مائل ہوتے ہیں اور بعض دفعہ یہ فیصلے کر دیتے ہیں کہ بس یہ قوم گئی ان کو میں سمجھانا چاہتا ہوں کہ اصلاح کی کوششوں کو انتہاء تک پہنچانا ضروری ہے اور جیسا کہ اس سے پہلے مضمون گزر چکا ہے یہ چیز صبر کے سوا ممکن نہیں ہے۔ صبر کا مطلب ہے کہ کسی موقع پر بھی اُمید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔ اپنے اوپر تکلیف لے لیں دوسرے کی تکلیف کی تمنا نہ کریں اور ظالم کے لئے بھی بد دُعا میں جلدی نہ کریں ۔ صبر کے ساتھ اگر وہ اصلاح کی کوشش کریں گے تو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی امت میں بہت گہری خوبیاں موجود صلى الله