خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 272
خطبات طاہر جلدا 272 خطبہ جمعہ ۷ اراپریل ۱۹۹۲ء آخری رکوع جس کی میں نے تلاوت کی ہے اس میں ان فتنوں کا علاج بیان فرمایا گیا ہے اور وہ نصیحتیں بیان فرمائی گئی ہیں کہ اگر وہ قو میں جو اصلاح کا دعوی لے کر اٹھتی ہیں ان نصیحتوں پر عمل پیرا ہوں تو وہ تاریخ تبدیل ہو سکتی ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر قوموں میں پاک تبدیلی پیدا ہو بھی جائے تب بھی بدوں کی تاریخ دہرائی جائے گی۔ تاریخ دہرانے میں دو اطراف کارفرما ہوتی ہیں اگر دونوں طرفیں ویسا ہی رویہ اختیار کریں تو لازماً پہلی تاریخ دہرائی جائے گی کیونکہ خدا کی تقدیر کسی سے نا انصافی کا سلوک نہیں فرماتی اور کسی کو نا واجب رعایت نہیں دیتی۔ اگر قوم کے نیک و بد کے دو حصے بنائے جائیں تو اگر نیکوں نے اپنی کوشش میں کمی کر دی ہو یا نیک کسی وجہ سے مجبور ہو چکے ہوں اور ان کا پیغام نہ سنا جائے تو قوموں کی ہلاکت کی تاریخ لازما د ہرائی جائے گی اور بدقوموں کا اس میں یہ کردار ہو گا کہ وہ بار بار کی نصیحتوں کے باوجود نیک لوگوں کی نصیحتوں پر ایک دفعہ پھر عمل کرنے سے انکار کر دیں اور اپنی ضد پر مصر ر ہیں ۔ پس یہ قوم کے دو حصے ہیں اگر یہ اپنی عادات کو تبدیل نہ کریں اور بعینہ وہی اعمال اختیار کریں اور طریق اختیار کریں جو پہلے کئے گئے تو تاریخ دہرائی جائے گی اور یہ تاریخ ضروری نہیں کہ بد ہو۔ چنانچہ سورہ یونس میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کا ذکر فرمایا جس کی تاریخ ویسی نہیں تھی جیسی پچھلی قوموں کی تھی یعنی تاریخ کا نتیجہ وہ ہلاکت نہ نکلا جو پہلی قوموں کی تاریخ کا نتیجہ نکلا اس لئے کہ بالآخر اس قوم نے توبہ کی ، استغفار سے کام لیا اور ان کی وہ ہلاکت جو گویا اس طرح مقدر ہو چکی تھی کہ نبی کو مشروط طور پر ان کی ہلاکت کی اطلاع دے دی گئی تھی لیکن جب قوم نے پاک تبدیلی کر دکھائی تو وہ ہلاکت کی خبر بھی ٹال دی گئی اور قرآن کریم فرماتا ہے کہ کاش یونس کی قوم کی طرح اور بھی تو میں ہوتیں کہ جو اس طرح نبی وقت کی ہدایت سے استفادہ کرنے کے بعد بالآخر اصلاح کرتیں اور ہلاکت سے بچ جاتیں۔ پس جب میں تاریخ دہرانے کی بات کرتا ہوں تو دونوں قسم کی تاریخوں کا قرآن کریم میں ذکر ہے وہ قو میں جنہوں نے آخر نصیحت پکڑی اور بچ گئیں ۔ ان میں سب سے بڑی اور پاکیزہ اور سب سے اونچی مثال حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم کی ہے۔ آپ کی مثال اور حضرت یونس کی مثال میں ایک کھلا کھلا فرق ہے۔ حضرت یونس کی مثال بیان کرنے کے بعد میرا فرض ہے کہ آپ کو اس پاکیزہ اور سب مثالوں سے بڑھ کر پاکیزہ مثال سے بھی آشنا کروں اور اس فرض