خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 267
خطبات طاہر جلداا 267 خطبه جمعه ۱۰ را پریل ۱۹۹۲ء جواب دہ ہوں گے۔ پس إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ کے اندر بڑے گہرے بڑے تفصیلی زندگی کے پیغام ہیں اور ہر موت مومن کو یہ زندگی بخش جام پلا کر جاتی ہے۔ جب وہ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ پڑھتا ہے تو یہ اس کا آب بقا ہے جسے وہ پیتا ہے لیکن عجیب طرح لوگ پیتے ہیں کہ یہ آب بقاء ان کو ہضم نہیں ہوتا ان کو یہ پتا ہی نہیں کہ یہ کیا پی رہے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اس مرنے والے کے لئے زہر کا پیالہ تھا جس کا میں ذکر کر رہا ہوں ۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ تو گیا اور ختم ہو گیا۔ پس اس کے آگے کچھ نہیں، میں باقی ہوں، بالکل الٹ بات ہے ۔ پیغام تو یہ تھا کہ تم باقی نہیں رہو گے اور عارضی طور پر کسی غلط فہمی میں بھی مبتلا نہ ہو جانا ۔ یہ جانے والا اس بات کو یقینی بنا کر جارہا ہے کہ تم بھی نہیں رہو گے اور لازماً تم نے اپنے خدا کی طرف جانا ہے۔ پس اتنی قطعی حقیقت کو بھلا دینا اور اپنی زندگی کو غفلت کی حالت میں بسر کرنا اور ظلم کی حالت میں بسر کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔ میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت اس نصیحت سے فائدہ اُٹھائے گی ۔ اپنے حال پر غور کریں۔ اپنے آپ کو تنقید کا نشانہ بنائیں تو آپ کو اپنی ذات میں سے ہی ہر نا کامی میں سے مرادیں مل جائیں گی اگر اس کے برعکس غیروں کو تنقید کا نشانہ بنانے کی عادت ڈالی اور دوسروں میں ظلم تلاش کئے اور اپنے ظلم سے غافل رہے تو پھر آپ کا ہر قدم موت کی طرف اُٹھ رہا ہے غیر اللہ کی طرف ا بر اللہ کی طرف اٹھ رہا ہے، آپ خدا کے نہیں رہے اور خدا کے نہیں ہو ر ہے اس ظلم کی حالت میں جان نہ دیں ا۔ ۔ خدا خدا ک کرے کہ ہم میں سے ہر مرنے والا ایسی حالت میں جان دے رہا ہو کہ اس پر رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (الفجر :۲۹) کی آیت صادق آ رہی ہو۔ وہ راضی حالت میں خدا کے حضور حاضر ہورہا ہو اور خدا کی رضا پا کر خدا کے حضور حاضر ہورہا ہو۔ آمین