خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 261 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 261

خطبات طاہر جلدا 261 خطبه جمعه ۱۰ را پریل ۱۹۹۲ء اس لئے آپ نرمی اور محبت اور پیار سے ان کو سمجھائیں کہ ناقدری کی وجہ سے میں ان کو نہیں روکتا بلکہ بعض قباحتیں ہیں جو میرے پیش نظر ہیں اس کی وجہ سے روکتا ہوں ۔ ایک تو یہ کچھ دن کے بعد غم اپنی شدت کے مقام سے اتر نا شروع ہو جاتا ہے جس طرح پارہ گرمی سے چڑھتا بھی ہے اور سردی سے اتر تا بھی ہے غم کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے جب اتر نا شروع ہو جاتا ہے پھر ایک ایسے مقام پر آجاتا ہے کہ اس غم کی ہمدردی کے لئے پھر ایک طبعی جذبہ زبردستی انسان کو مجبور نہیں کر رہا ہوتا بلکہ ارادے اور کوشش سے سوچ کر بعض باتیں کرنی پڑتی ہیں جب وفات کی خبر تازہ تھی یا کچھ دن تک تازہ رہتی ہے تو اس وقت بے اختیاری سے از خود لوگ چلے آتے ہیں ان کو روکنا جائز نہیں لیکن جب غم اس مقام سے اتر چکا ہو اور پھر یہ سوچ کر کہ ہمیں بھی جانا چاہئے فلاں گیا ہے اور فلاں گیا ہے ہم کیوں نہ جائیں ۔ جب ایک منظم طریق پر تحریک کے نتیجہ میں لوگوں کے وفود تیار کئے جائیں تو اس میں کچھ تصنع پیدا ہو جاتا ہے اور پھر ایسے لوگ بھی بیچ میں شامل ہو سکتے ہیں جن کو تکلیف ہو جو مالی لحاظ سے دقت محسوس کر رہے ہوں یا مصروف الاوقات ہونے کی وجہ سے وہ مجبور ہوں کہ کسی اور کام کو قربان کر کے آئیں تو ان کے دل پر بوجھ پڑتا ہے اور بعض لوگ یہ بھی بیان نہیں کر سکتے بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے کہا کہ نہیں تو جس نے ہمیں نصیحت کی ہے یا توجہ دلائی ہے وہ یہ سمجھے گا کہ اس کو شاید کم محبت ہے، اس کو کم تعلق ہے۔ ایسے نیک کام کے لئے کہا اور اس نے آگے سے جواب دے دیا تو دے دیا تو بہت سے لوگ بے وجہ ابتلاؤں میں پڑ جاتے ہیں اور تصنع اور تکلفات کے سلسلے شروع ہو جاتے ہیں۔ پھر میرا وقت بھی مجبورا ایسے کام پر صرف ہوتا ہے جس کی میں ضرورت نہیں سمجھتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ غم کا جو ابتدائی ریلا تھا۔ اس میں ساری جماعت مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک شریک تھی اور اس کا اظہار ہو یا نہ ہو جس طرح ساری دنیا میں بے ساختہ دعائیں ہورہی تھیں ان دعاؤں کا علم بھی اس بات کے لئے کافی ہے کہ جماعت کو اس وفات کے نتیجہ میں غیر معمولی صدمہ پہنچا ہوگا بلکہ بعض صورتوں میں ایسا صدمہ کہ میں نہیں جانتا کہ ان کو مجھ سے تعزیت کرنی چاہئے یا مجھے ان سے تعزیت کرنی چاہئے تو جب ان سب کیفیات پر میری نگاہ ہے تو پھر کیوں رسمی طور پر ہم ان باتوں کو لمبا کر دیں اور اتنا کھینچیں کہ اس کے نتیجہ میں تکلفات پیدا ہوں اور ابتدائی جذبات کی پاکیزگی پر کچھ میل آجائے اس لحاظ سے میں نے امیر صاحب (یو۔ کے ) سے