خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 232
خطبات طاہر جلداا 232 خطبه جمعه ۳ را پریل ۱۹۹۲ء ہے کہ مراد یہ ہے کہ ہر چیز فانی اور بے معنی اور بے حقیقت ہے اور ان کی بقا کے کوئی معنی نہیں جو بظاہر نظر بھی آئیں وہی چیز باقی ہے جو رب کی رضا کے ساتھ باقی ہے اور رب کی رضا کے ساتھ زندہ ہے۔ اس کے علاوہ اس میں ایک اور بھی راز بیان فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی چیزیں باقی رہتی ہیں تو وہ فی ذاتہ باقی نہیں رہ سکتیں۔ الا نے یہ استثناء کر کے متوجہ فرمایا کہ ہم خدا کے سوا بھی تو بے انتہا وجود دیکھتے ہیں اور مرنے کے بعد کی زندگی کا ہم سے وعدہ بھی کیا گیا ہے تو كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ سے کیا صرف یہ مراد ہے کہ ہر چیز اس دنیا سے مٹ کر ایک نئی زندگی میں داخل ہوگی لیکن یہ مراد نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ کی ذات کے ساتھ جس کی وابستگی ہو گی اُسے نئی زندگی ملے گی اور اُسے بقا نصیب ہوگی ۔سوائے اس کے جسے خدا کا وجہ نصیب نہ ہو تو وجہ سے مراد توجہ بھی ہے۔ رحمت شفقت پیار اور محبت کا تعلق یہ ساری باتیں پیار کی توجہ میں داخل ہوتی ہیں ۔ پس وَجْهُ رَبَّكَ کا مطلب یہ ہوگا سوائے ان کے جن کو خدا کے پیار کی توجہ نصیب ہو وہ فنا ہونے والے وجود نہیں ہیں وہ ہمیشہ باقی رکھے جائیں گے ۔ پس ان معنوں میں حضرت اقدس محمد مصطفی ہے سب سے اول اس آیت سے مراد ہیں اور سب سے اول یہ آیت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہی پر اطلاق پاتی ہے۔ آج جمعہ کا مبارک دن ہے اور ۲۹ رمضان ہے یہ جمعۃ الوداع کہلاتا ہے اس جمعہ کے آغاز ہی میں یعنی جب جمعرات کا سورج ڈھل گیا اور اسلامی نقطہ نگاہ سے جمعہ کی رات شروع ہوگئی اور جب انگریزی نقطہ نگاہ سے بھی رات کے بارہ بجے ایک دو منٹ او پر ہوئے تو اس وقت میری بیوی کو رب کا بلاوا آگیا ۔ اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ اس سے پہلے میں نے ان کا ذکر نہیں کیا کرتا تھا اُس کی وجوہات یہ ہیں اول یہ کہ مجھے ڈر تھا کہ اگر جذبات پر قابو نہ رہا جماعت جو پہلے ہی نڈھال ہے بالکل ذبح کی حالت کو پہنچ جائے گی۔ جماعت سے جو میرا تعلق ہے ایسا ہے کہ میں جماعت کے دل میں رہتا ہوں اور جماعت میرے دل میں رہتی ہے یہ ایسا تعلق ہے جو خطوں کا محتاج نہیں پیغاموں کا محتاج نہیں کسی کو بتانا نہیں پڑتا کہ اُسے مجھ سے کتنی محبت ہے یہ ایسے جاری وساری زندہ رشتے ہیں جو وجہ ربت کے طفیل ہمیں نصیب ہوئے ہیں اور وَجْهُ رَبِّكَ کی یہ علامات ہیں کہ لیہی محبتیں اتنی شدت پکڑ جائیں کہ دوسری دنیاوی محبتیں ان کے مقابل پر کوئی حیثیت نہ رکھیں تو ایک تو یہ خوف دامنگیر تھا کہ کہیں میرے جذبات کے غلبہ کے نتیجہ میں وہ احمدی جو پہلے ہی شدت کے ساتھ میرا دکھ