خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 222 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 222

خطبات طاہر جلدا پھیلنے والے شر کا فتنہ ہے۔ صلى الله صلى الله عروسة صلى الله 222 خطبه جمعه ۲۷ مارچ ۱۹۹۲ء گی۔ اس پس اس موقع پر ان سے بچنے کے لئے کیا ظہور پذیر ہوگا۔ فرمایا کہ گویا ایک اور لیلۃ القدر جو محمد مصطفی کی لیلۃ القدر ہے آخری زمانہ میں بھی ظاہر ہو گی اور اُس زمانے کی بھی سنی جائے عروسه مضمون کو قرآن کریم میں مختلف جگہ پر مختلف رنگ میں بیان کیا گیا ہے ۔ چنانچہ ایک جگہ فرمایا: وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصُّلِحُتِ (العصر : ۴۲) یعنی زمانے کی قسم کہ سارا زمانہ گھاٹے میں چلا گیا ہے ۔ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم : ۴۲) کا نقشہ ہے لیکن ایک استثنیٰ کے ساتھ ۔ یہ اُس زمانے کی بات ہے جب محمد مصطفی کے ماننے والے بھی موجود ہوں گے اور اُن کا استثنیٰ فرمایا گیا اس لئے اگر آپ بار یک نظر سے دیکھیں تو یہ دو مختلف زمانے کی باتیں ہیں ۔ ایک وہ زمانہ ہے جس کے متعلق فرمایا کہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ اور وہ زمانہ ہے جبکہ اس فساد کو دور کرنے کے لئے ایک ہی سورج ظاہر ہوا ہے اور وہ محمد مصطفی ﷺ کا سورج ہے اور اُس کی شعاعوں اور اُس کی روشنی کے نتیجہ میں پھر نورانی وجود پیدا ہونے شروع ہوئے لیکن جب محمد مصطفی ظاہر نہیں ہوئے جب تک آپ کی فجر طلوع نہیں ہوئی یہ رات مکمل رات تھی ۔ مگر آخری زمانے کی جس رات کا ذکر سورہ عصر میں فرمایا گیا اس میں مستثنیٰ ساتھ ہی کر دیا اور اس میں ایک یہ بھی خوشخبری ہے کہ آنحضور ﷺ کے ماننے والوں پر قیامت تک کوئی ایک ایسا دور نہیں آئے گا جس میں کچھ مومن اور کچھ صالحین ایسے نہ ہوں جن کو خدا تعالٰی ہلاک ہونے والوں سے مستثنی قرار نہ دے دے۔ لاز ما قیامت تک محمد رسول اللہ ﷺ کا نورکسی نہ کسی شکل میں ضرور زمین پر جلوہ گر رہے گا اور ایک لمحہ بھی ایسا نہیں آسکتا خواہ سارا زمانہ تاریکیوں میں ا ڈوب جائے کہ وہ تاریکیاں اس نور کو بھی غرق کر دیں یہ ضرور چمکتا رہے گا اور امید کی کرنیں دنیا کو عطا کرتا رہے گا۔ پس وَالْعَصْرِ نے جس اندھیری رات کا ذکر فرمایا وہاں لَيْلَةُ الْقَدْرِ کے مضمون کو ایک اور رنگ میں بیان فرمایا ہے۔ فرمایا روشنی پوری طرح مٹی نہیں ہے ابھی موجود ہے۔ تم ٹولو اور دیکھو، اپنے دل کوٹول کے دیکھو اگر تم مومن ہو اور خدا کے پاک رسول محمد مصطفی ﷺ سے وابستہ ہو تو تم میں سے ہر ایک کے اندر استثناء کے امکانات موجود ہیں اور وہ استثناء کامل اس طرح بنے گا کہ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ۔ ایسے لوگوں کو مستثنیٰ کیا جائے گا جو صرف آنحضور صلى الله صلى الله