خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 215 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 215

خطبات طاہر جلد اا 215 خطبه جمعه ۲۷ مارچ ۱۹۹۲ء لَيْلَةُ الْقَدْرِ کا انسان کی ساری زندگی سے تعلق ہے۔ لَيْلَةُ الْقَدْرِ کی قطعی نشانی یہ ہےکہ انسان میں پاک تبدیلی پیدا ہوئے۔ ( خطبه جمعه فرموده ۲۷ مارچ ۱۹۹۲ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے درج ذیل آیات تلاوت کیں : حمَةٌ وَالْكِتَبِ الْمُبِينِ : إِنَّا اَنْزَلْتُهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبْرَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيمٍنْ أَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (الدخان ۲-۷) پھر فرمایا:۔ رمضان ایک دفعہ پھر اپنے اس عشرے میں داخل ہو گیا ہے جس میں رمضان کی راتیں نسبتاً زیادہ بھیگ جاتی ہیں اور دن بھی بھیگ جاتے ہیں۔ یہ وہ عشرہ ہے جو دعاؤں کی قبولیت کا عشرہ ہے اگر چہ ہر دن انسان پر دعا کی قبولیت کا دن بن کر چڑھ سکتا ہے اگر اسے سچی توبہ اور استغفار کی توفیق ملے لیکن یہ وہ دن ہیں جو خصوصیت کے ساتھ قبولیت دعا کے دن کہلاتے ہیں اور یہ وہ راتیں ہیں جو خصوصیت کے ساتھ قبولیت دعا کی راتیں کہلاتی ہیں کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ہمیں یہی خبر دی ہے کہ ان راتوں میں گویا خدا اپنے بندوں کے زیادہ قریب آجاتا ہے۔ ان راتوں کے ساتھ کچھ خاص تقدیریں وابستہ ہیں اور ان تقدیروں کو اَلْقَدْرِ کے طور پر قرآن کریم نے بیان