خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 197
خطبات طاہر جلد اا 197 خطبه جمعه ۲۰ مارچ ۱۹۹۲ء دعوت الی اللہ میں حکمت سے کام لیں ۔ خدمت خلق اور دعوت الی اللہ کو الگ الگ رکھیں ۔ ( خطبه جمعه فرموده ۲۰ مارچ ۱۹۹۲ء بمقام مسجد فضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں۔ يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صُبِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةً يَغْلِبُوا الْفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ الْنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا ۖ فَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةً صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَلْفَ يَغْلِبُوا الْفَيْنِ بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّبِرِينَ (الانقال :۲۲ - ۲۷) پھر فرمایا :۔ گزشتہ جمعہ میں نے آیات پڑھے بغیر جن آیات کا حوالہ دیا تھا اُن سے متعلق ایک سوال آیا ہے۔ کسی نے یہ توجہ دلائی ہے کہ ابتداء میں خود اللہ تعالیٰ نے نرمی فرماتے ہوئے نسبت کو ہلکا رکھ دیا اور ایک مومن کے مقابل پر دو کفار کی نسبت قائم فرمائی اور بعد ازاں اس نسبت کو بڑھا کر ایک اور دس کی نسبت بنا دیا لیکن قرآن کریم میں پہلے ایک اور دس کی نسبت کا ذکر آتا ہے اور بعد میں ایک اور دو کی