خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 13 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 13

خطبات طاہر جلداا 13 خطبه جمعه ۳ جنوری ۱۹۹۲ء ب سے پہلے دوڑنا نہ شروع کریں گے تو ہم ناشکرے بندے بنیں گے ۔ اس لئے ہندوستان کی جماعتیں ہوں یا انگلستان کی یا یورپ اور امریکہ کی دوسری جماعتیں اور افریقہ کے وہ ممالک جن میں احمدیت خدا کے فضل سے بڑی تیزی سے ترقی کر رہی ہے آپ سب کے لئے میر ۔ میرے دو پیغام ہیں ۔ سب سے - پاکستان کے احمدیوں کو اپنی دعاؤں میں خصوصیت سے یاد رکھیں کیونکہ آپ کی کامیابیوں کے بدلے ان مظلوم احمد یوں سے اتارے جائیں گے اور اس کے لئے منصوبے بنائے جارہے ہیں ۔ لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی طرف جو عادت منسوب فرمائی ہے وہ بہر حال سچی ثابت ہوگی کہو مَكَرُوا وَمَكَرَ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ (آل عمران:۵۵) اور إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا وَأَكِيدُ كَيْدًا فَمَهْلِ الْكَفِرِينَ أَمْهِلُهُمْ رُوَيْدًا (الطارق: ۱۸۱۶) یہ دو مختلف آیات ہیں جن میں ایک ہی مضمون کو مختلف رنگ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا کہ یہ لوگ ہر وقت سچائی کے خلاف مکر میں مصروف ہیں اور میرے بندوں کو مکر آتا نہیں تو کیسے ان کے مکر کا جواب دیا جائے۔ فرمایا : مَكَرَ الله یہ نہیں فرمایا: مكر المومنون ۔ اللہ مکر کرتا ہے لیکن مکر میں بدی کا ایک پہلو بھی پایا جاتا ہے۔ فرمایا: وَالله خَيْرٌ الْمُكِرِينَ اللہ کے مکر میں شر کا پہلو نہیں بلکہ سارے بھلائی کے پہلو ہیں اور خَيْرُ الْمُكِرِينَ کا مطلب یہ بھی ہے کہ اللہ کا مکر غالب آنے والا مکر ہے۔ اس پر کوئی دوسرا مگر غالب نہیں آسکتا۔ تو اللہ تعالیٰ اپنی تدبیروں میں مصروف ہے اور وہ کبھی بھی ہمارے حال سے غافل نہیں رہا۔ ہماری دعاؤں کے نتیجہ میں اس کا فضل اور بھی زیادہ قریب آجاتا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا: إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا وَاكِيدُ كَيْدًا کہ یہ دشمن اسلام اور حق کے دشمن بڑی بڑی کیدیں کرتے ہیں۔ مکروفریب کے بڑے منصوبے باندھتے ہیں ۔ کیا سمجھتے ہیں کہ میں خاموش بیٹھا رہوں گا وَ أَكِيدُ كَيْدًا میں بھی جواباً بڑی بڑی تدبیریں کروں گا اور بڑی بڑی تدبیریں کرتا ہوں ۔ فَمَهْلِ الْكُفِرِينَ أَمْهِلُهُمْ رُوَيْدًا اے مومنوں کی جماعت! ان لوگوں کو اپنی جہالت کی حالت میں کچھ دیر اور بھٹکنے دو بالآخر خدا کی تدبیر ہی غالب آنے والی ہے۔ خدا کرے کہ ہم جلد اس غالب تدبیر کا منہ دیکھیں جیسے کہ دنیا میں دیکھا ہے پاکستان میں بھی یہ منہ دیکھیں اور پاکستان کے باشندوں کی تقدیر بدل جائے۔ جب تک یہ ملاں پاکستان کی جڑوں میں بیٹھا ہوا ہے، اس درخت کو کبھی پھل نہیں لگ سکتے۔ ایک بے کار درخت بن چکا