خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 162
خطبات طاہر جلداا 162 خطبه جمعه ۶ / مارچ ۱۹۹۲ء صلى الله صلى الله طور پر بھی روزے رکھے جا سکتے ہیں تو قرآن کریم نے اس کی بھی تعلیم دے دی کہ فرضی روزوں میں تو شرائط کے ساتھ بات کھول دی گئی۔ اس کے علاوہ اگر تم نفلی روزے رکھنا چا ہو تو بہت ہی بہتر ہے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ اس کثرت سے نفلی روزے رکھتے تھے کہ ایک مہینہ کے فرضی روزوں کے ساتھ سے تین مہینے کے یعنی اگر سارے دنوں کو شمار کر لیا جائے تو حضرت خلیفہ اسح الاول کے حساب سے آپ تین مہینے نفلی روزے بھی رکھتے تھے ۔ گویا ایک قسم کی وصیت کی آخری حد یعنی ۱/۳ اس رنگ میں پوری ہو گئی ۔ بعض لوگ دسویں حصہ کی وصیت کرتے ہیں اور سال میں ایک مہینہ دسویں حصہ کے قریب تر ہے اور اگر چار مہینے کے روزے رکھے جائیں تو وہ قربانی وصیت کی انتہائی حد کو ۱/۳ چھوتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جس چیز کی دوسروں کو اجازت دیتے تھے اور جس حد تک اجازت دیتے تھے اس کا مکمل نمونہ خود پیش فرمایا کرتے تھے۔ آپ ۱۳ اسے زائد مالی قربانی یا جانی قربانی کی بالعموم اجازت نہیں دیتے تھے۔ سوائے اس کے کہ کوئی غیر معمولی استثنائی صورت ہو جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق سے آپ نے آپ کے گھر کا پورا مال وصول فرمالیا اور وہ بھی مخصوص آدمیوں کے لئے ان کی طاقتوں کو دیکھ کر آپ ایسا فیصلہ فرماتے تھے مگر عمومی دستور جو آپ کے نمونے سے اور قول سے ثابت ہے وہ یہی ہے کہ قربانی کو ۱/۳ کی حد تک پہنچاؤ ۔ کیونکہ اس میں دوسروں کے بھی حقوق ہیں، تمہاری بیوی کے بھی حقوق ہیں ، بچوں کے بھی حقوق ہیں ، عزیزوں ہمسایوں کے حقوق ہیں، غرباء کے حقوق ہیں ، وہ قربانیاں اُن کے علاوہ ہیں اور اگر انسان اُن کو عبادت سمجھ کر خدا کی مرضی کی خاطر سرانجام دے تو ان معنوں میں ساری ساری زندگی اور تمام اموال اور جو کچھ انسان خرچ کرتا ہے وہ سب کچھ خدا کے ہاں عبادت ہی شمار ہوگا ۔ فرمایا فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۔ یہاں یہ بات بتانی ضروری ہے کہ یہاں یہ بات نہیں ہے کہ مریض ہو اور سفر پر ہو اور خدا کی طرف سے تمہیں رخصت دی گئی ہو کہ روزے نہیں رکھنے تو تم شوق سے بے شک روزے رکھ لیا کرو۔ سفر میں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں ہے ان معنوں میں کہ خدا نے رخصت عطا فرمادی ہے اور رخصت سے فائدہ نہ اٹھانا بھی ایک قسم کی ناشکری بن جاتی ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جب سفر اختیار کرو تو ز بر دستی خدا کو خوش کرنے زبردستی کی کوشش نہ کرو اور اسی مضمون کو قرآن کریم کی یہ آیات آگے جا کر کھولتی ہیں ۔ -