خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 152 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 152

خطبات طاہر جلد اا 152 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۹۲ء یہ بت پردہ نہیں کرتے ، خُدا ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ بت جو ہیں یہ پردہ نہیں کر رہے، اللہ ظاہر نہیں ہو ریا۔ اُس کے بعد کہتا ہے غنیمت ہے کہ میں کافر نہیں ہوتا یہ بھی شکر ہے کہ ان باتوں کے ہوتے ہوئے میں ابھی مومن ہوں اور کافر نہیں ہوا تو زمانہ ایسا ہے کہ جن پر خدا ظاہر نہ ہو جن پر دنیا کے بہت بے نقاب ہو چکے ہوں اور ہوتے چلے جارہے ہوں ۔ مادہ پرستی اپنی تمام شان اور ظاہری سطحی حسن کے ساتھ ان کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہو تو وہ اگر ابھی بھی خدا کے قائل ہیں تو یہ اللہ کا احسان ہے نعمت ہے، خدا کا شکر ہے کہ وہ کافر نہیں ہوئے۔ پس اس پہلو سے احمدی اور غیر احمدی میں ایک فرق ہے احمد ی اس لئے کا فرنہیں ہوتا کہ اس نے خدا کو دیکھا ہے اور دیکھ رہا ہے اور ہر روز خدا اس پر جلوہ گر ہوتا ہے۔ شدید سے شدید مصائب میں ہر تکلیف اور تنگی کے دور میں احمدی کے لئے خدا تعالیٰ کی دوستی کے نشان ملتے ہیں ۔ اس کی زیارت کی جھلکیاں وہ دیکھتا ہے اور ہر شخص اپنی توفیق کے مطابق ایسا کرتا ہے یہ نہیں کہ ہر آدمی ولایت کے ایسے اعلیٰ مقام پر ہے کہ خدا تعالیٰ اس کو کھلا کھلا صاف عظیم نشانات کے ذریعہ دکھائی دینے لگے مگر حسب توفیق جتنی کسی کی صلاحیت ہو اس کے مطابق خدا تعالیٰ اس پر ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ پس تبلیغ کے لئے ایک زندہ خدا کا اپنی ذات کے آئینہ میں دکھانا بہت ہی ضروری ہے۔ باقی سب دلائل اُس کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور بعد میں آنے والی باتیں ہیں۔ پس مبشر بنیں اور پھر اُس کے بعد انذار کی باری آئے گی یعنی ڈرانے والی باتیں جن کو پنڈ رکہتے ہیں وہ بتانے کے لئے بعد کا مضمون ہے۔ بعد کا وقت اس کے لئے مناسب ہے پہلے تبشیر ، پھر ڈرانا۔ اور اس پہلو سے آپ پھر ان کو آگاہ کریں کہ ان کے معاشرے میں کیا ہورہا ہے۔ کتنے دکھ پھیل رہے ہیں ، دن بدن مصیبتیں ان کو گھیرتی چلی جارہی ہیں ، ان کے دلوں کے سکون اٹھتے چلے جارہے ہیں ، ان کے گھر بے چین ہو گئے ہیں اور کسی کو کچھ سمجھ نہیں آتی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ آج کل بڑے زور سے انگلستان کے دانشوروں اور سیاستدانوں میں یہ بحث چل رہی ہے کہ جرم کیوں بڑھ رہا ہے اور ایک پارٹی دوسری پارٹی کو اس کا ذمہ دار قرار دیتی ہے ۔ جو اپوزیشن والے ہیں وہ حکومت کی پالیسیز پر کہتے ہیں تمہاری وجہ سے تمہاری غلط پالیسیز کی وجہ سے یہ سب نقصان ہو رہا ہے حالانکہ یہ سب باتیں فرضی ہیں ۔ جرم خدا سے دوری کے نتیجہ میں بڑھتا ہے اور اس کا