خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 137

خطبات طاہر جلداا 137 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۹۲ء صلى کا نمونہ پیش کر دیا گیا ہے اور اس کے بغیر مغربی دنیا میں تو دعوت الی اللہ بہت مشکل ہے۔ آپ کے بہت سے ایسے ملنے جلنے والے ہو سکتے ہیں جنہوں نے اسلام کے متعلق غلط تصور باندھے ہوئے ہیں اور وہی وجوہات ہیں جو میں بیان کر رہا ہوں کہ کسی جہالت کے دور میں قرآن کے معنی بگاڑ بھی دیئے گئے ، سنت کے معنی بھی بگاڑ دیئے گئے اور بد بخت جاہلوں نے اپنی بداخلان اپنی بداخلاقیوں کو نعوذ باللہ قرآنی تعلیم کی طرف اور حضرت محمد مصطفے ﷺ کے اسوہ حسنہ حسنہ کی طرف منسوب کر کے کے سندات سندات حاص حاصل کیں ں اور اور ا اپنی بد بختیوں کو چھپانے کے لئے اسلام کا حوالہ دے کر دنیا کے سامنے کہا کہ ہم تو نیکی کر رہے ہیں۔ ہمیں تو خدا نے یہ اجازت دی ہے کہ اس قسم کی بد تمیزیاں کرتے پھریں تو دیکھئے اسلام کی کیا تصویر دنیا کے سامنے بنے گی ۔ یہ وہ منفی دعوت الی اللہ کرنے والے ہیں جو منہ سے تو یہی کہیں گے کہ آؤ ہم تمہیں اسلام کی طرف بلاتے ہیں لیکن ان کی ساری زندگیاں اور پوری نسلیں تاریخ میں گواہ ہیں کہ انہوں نے دنیا کو اسلام سے بدکا دیا ہے، متنفر کر دیا ہے ۔ پیچھے پھینک دیا ہے ۔ پس آپ نے اپنا ہی حساب نہیں دینا۔ ان گزرے ہوئے بد بخت زمانوں کا بھی حساب دینا ہے جبکہ محمد مصطفے ﷺ کی سنت اور خدا کے کلام سے کی گئیں، جب کہ اسلامی معاشرے کو ایسا بد زینت ، بد زیب بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا کہ اس کے نتیجہ میں تبلیغ ممکن ہی نہیں رہی۔ پس آج اگر احمدی نے اپنے گھر کو جنت کا نمونہ نہ بنایا اور اپنے گھر میں ان اسلامی اخلاق کو جو حضرت محمد مصطفی کی سیرت سے روشن ہوئے ہیں جن کے بعد کسی ابہام کی کوئی گنجائش نہیں رہی کوئی الله سے نبی سے نبی اور شقی سے شقی مولوی بھی جو قر آن کے غلط معنی کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت ۔ ایک واقعہ ایسا نہیں دکھا سکتا جس میں آپ نے اپنے گھر والوں سے زیادتیاں کی ہوں اور پھر اس کی کی تعلیم دیتا ہے۔ پھر مارنے میں جلدی کرتا ہے کہتا ہے مارنے کا مطلب یہ ہے کہ اٹھاؤ ڈنڈا اور بیوی کو سیدھا کر دو۔ پس اخلاق حسنہ کے ساتھ گھر کی اصلاح کرنا یہ قوام کے معنی ہیں آنحضرت ﷺ نے یہی قوامی دکھائی تھی جس کے اعجاز میں آپ کی بیگمات امہات المؤمنین سب دنیا کے لئے نمونہ بن گئی تھیں۔ پس اپنے بیرونی اخلاق کی بھی حفاظت کرنی پڑے گی ۔ اپنے اندرونی اخلاق کی بھی حفاظت کرنی پڑے گی۔ یہ دعوت الی اللہ کے پروگرام کا ایک لازمی حصہ ہے کوئی معمولی حصہ نہیں اور آپ اپنے