خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 127 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 127

خطبات طاہر جلدا 127 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۹۲ء سامنے کھڑی ہے۔ یہ اگر منصوبہ بنائیں گے تو خَيْرُ الْمُكِرِينَ والا منصوبہ ہوگا۔ شر الماكرين والا نہیں ہو سکتا۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاللهُ خَيْرُ الْمَكِرِينَ مومن کو بھی جب جوابی منصوبہ بنانا ہو تو خَيْرُ الْمُكِرِينَ ہونا پڑے گا۔ خیر کا دوسرا مطلب بہتر کا ہے جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔ اس منصوبے میں غالب آنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ دشمن کے ہر منصوبے کو یہ بہتر منصوبہ لازماً نا کام کر دیتا ہے۔ پس صلاحیتوں کے لحاظ سے بہتر کے معنی میں خَيْرُ الْمُكِرِينَ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ابتداء ہی میں مومن کو جو نصیحت فرمائی ہے وہ در اصل دشمن کے سارے منصوبوں کا توڑ ہے اور خدا تعالی کا مومن کے لئے منصوبے بنانا اس مرکزی نقطہ سے تعلق رکھتا ہے جس کا بیان اس سے پہلے ہو گیا ہے کہ اس کو مضبوطی سے پکڑ لو تمہارے سارے کام ٹھیک ہو جائیں گے ۔ وہ تقوی ہے۔ اس ساری آیت میں ایک ہی چابی رکھی گئی ہے۔ باقی سب اس چابی کے ذریعہ کھلتے ہوئے تالوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں لیکن خدا کے منصوبے بنانے کا تعلق بھی مومن کے تقویٰ سے ہے۔ جس مومن میں تقوی نہ ہو اس کے لئے خدا منصوبے نہیں بنایا کرتا ، اس کے حق میں کوئی بھی وعدہ پورا نہیں ہوتا ، اُسے کوئی فرقان عطا نہیں کی جاتی ۔ پس جب میں یہ کہتا ہوں کہ اپنے لئے انفرادی طور پر منصوبہ بنائیں تو اس میں دعا کے بعد سب سے اہم قابل توجہ بات یہ ہے کہ اپنے تقویٰ کا منصوبہ بنائیں اور تقویٰ کا منصوبہ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کو علم ہو آپ میں کیا کیا کمی ہے اور وہ کمی بعض دفعہ ایسی بھی ہوتی ہے کہ جو آپ کے بس میں ہو کہ اُسے دور کر دیں اور بعض دفعہ ایسی بھی ہوتی ہے کہ آپ اپنی برائیوں کے ہاتھوں مغلوب ہو چکے ہوتے ہیں اور کوئی پیش نہیں جاتی ۔ ان دونوں حالتوں میں خدا تعالیٰ نے آپ کو متقی ہی قرار دیا ہے۔ یہ بہت ہی قابل ذکر نکتہ ہے، یہ بہت ہی توجہ کے لائق نکتہ ہے کہ یہاں متقی کی یہ تعریف نہیں فرمائی کہ متقی وہ ہے جو نیتوں میں بھی کامل ہو اور عمل میں بھی کامل ہو اس میں نقائص نہ ہوں میں صرف ان کی مدد کروں گا۔ اگر یہ ہوتا تو دعوت الی اللہ کرنے کے لئے خدا کے ہاتھ کچھ بھی باقی نہ رہتا کیونکہ تقویٰ کی مصیبت یہ ہے کہ جتنا تقویٰ بڑھتا ہے اُتنا ہی انسان اپنے آپ کو گناہ گار بھی سمجھنے لگ جاتا ہے اور بسا اوقات درست ہوتا ہے کیونکہ اس کا نیکی کا معیار بڑھتا رہتا ہے جس چیز کو وہ نیکی سمجھتا ہے وہ ایک مقام پر نہیں رہتی بلکہ اس کا معیار بلند ہوتا رہتا ہے اسی کا نام عرفان ہے۔ تو تقوی اُس کے نقائص کھول کھول کر سامنے