خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 118
خطبات طاہر جلدا 118 خطبه جمعه ۱۴ فروری ۱۹۹۲ء کسی نے انسان سے کرنا ہے کر گزرے۔ ہر قسم کے دُکھوں میں مبتلا ہونے کے بعد خدا کی خاطر اس کو کھلے دل کے ساتھ صبر نصیب ہو جائے پھر وہ کہتا ہے اب ٹھیک ہے۔ جو کچھ ہونا تھا ہو چکا اب تو میں سب کچھ اپنی ساری طاقتیں اس راہ میں جھونک دوں گا اور کسی منزل پر میرے قدم نہیں ڈگمگائیں گے۔ یہ وہ آرزو ہے جو اس دُعا کی صورت میں مانگی گئی ہے۔ وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا ہمارے قدموں کو مضبوط فرمادے ۔ وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ اور ہماری یہ جدو جہد رائیگاں نہ جائے۔ وہ جدو جہد جس کا آغاز یک طرفہ مظالم سے شروع ہوا۔ مد مقابل نے نصیحت فرمانے کی بجائے ہمیں دُکھ دیئے۔ یہاں تک کہ ہمیں تجھ سے صبر کی التجا کرنی پڑی۔ اس کا انجام یہ کر کہ ہمیں فتح نصیب فرما اور ہمیں دُکھ دینے والے مغلوب ہو جائیں ۔ اب یہ وہ دعا ہے کہ اگر یہ بھی منصوبہ میں داخل ہو تو دیکھیں کیسے کیسے لطف دے گی اور کتنی عظیم طاقتیں آپ کو عطا کرے گی اور دعا مانگتے وقت آپ کے حوصلے بڑھیں گے، آپ کا یقین بڑھے گا اور عزم میں مضبوطی پیدا ہو گی کیونکہ ثَبِّتْ أَقْدَامَنَا کی دُعا اگر قبول ہو تو عزم کی مضبوطی اس میں شامل ہے۔ جس کے عزم مضبوط نہ ہوں اس کے قدم بھی مضبوط نہیں ہو سکتے ۔ پس یہ اور اس جیسی اور دعائیں ہیں۔ میں اس وقت دُعاؤں کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ میں صرف یہ سمجھا رہا ہوں کہ آپ منصوبے کیسے بنائیں گے ۔ ہر منصوبہ بنانے والا پہلے دُعاؤں کا منصوبہ بنائے اور دعاؤں کا منصوبہ بناتے وقت یا درکھے کہ عبادت کا قیام ضروری ہے۔ عبادت کے قیام کے بغیر اور نیک اعمال کے بغیر دعاؤں کو رفعت عطا نہیں ہوتی۔ کسی کلمہ کو بلندی نصیب نہیں ہوتی تو منصوبہ بناتے وقت انسان سوچتا بھی رہے اپنے نفس کا محاسبہ بھی کرتا رہے اور اگر نیک ارادے کے ساتھ ، عزم صمیم کے ساتھ منصوبہ کے لئے بیٹھا ہے تو لازماً منصوبہ بناتے وقت کی جو فکریں ہیں وہ اس کے دل پر نیک اثر ڈالیں گی اور بہت سی پاک تبدیلیاں اس کے اندر پیدا کریں گی ۔ بہر حال دعاؤں کے مضمون میں ایک اور بات کو بھی داخل کر لیں کہ منصوبہ بناتے وقت یہ بھی فیصلہ کریں کہ جن لوگوں کو میں یا ہم تبلیغ کریں گے ان کے لئے بھی دعائیں کیا کریں گے اور اپنی دعاؤں کی طاقت کے کرشمے ان کو دکھائیں گے اور ان کو بتائیں گے کہ جس خدا کی طرف سے ہم آ رہے ہیں اور جس خدا کی طرف تمہیں بلانے کے لئے دعوت دے رہے ہیں اس خدا سے ہمارا تعلق ہے اور وہ ہماری دُعاؤں کو سُنتا ہے۔ پس ہم خدا کے