خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 993
خطبات طاہر جلد ۱۰ 993 خطبه جمعه ۲۰ دسمبر ۱۹۹۱ء امید ہے کہ ایسے لوگوں سے مغفرت کا سلوک فرمائے گا۔ ان کی کمزوریوں سے صرف نظر فرمائے گا ، ان کے گناہوں کو بخشے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میرے سب سے محبوب اور سب سے محبوب مطلوب سے یہ پیار کرنے والے ہیں۔ اور اگر اپنے کسی محبوب سے کسی کو پیار ہو تو لازماً اس کی کمزوریوں سے و بھی انسان صرف نظر کرنے لگ جاتا ہے اور بہت سی باتیں اس کی برداشت کر جاتا ہے جو دوسروں کی نہیں کرسکتا۔ پس خدا سے مغفرت پانے کا بھی یہی ایک ذریعہ ہے۔ اس وسیلے سے تعلق قائم کریں اور اس وسیلے کی خاطر آپ اس کے اور بنی نوع انسان کے درمیان وسیلہ بن جائیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آج کے خطبے کی آواز دنیا کے مختلف ممالک میں پہنچ رہی ہے اور اس ضمن میں جسوال برداران کا دعا کی خاطر ذکر کرنا چاہتا ہوں ، خصوصاً وسیم جسوال صاحب کی غیر معمولی محنت اور کوشش کے نتیجے میں آج یہ سامان مہیا ہوئے ہیں کہ آج یہاں کے خطبے کی آواز انگلستان پہنچے ۔ پھر انگلستان سے سیٹلائٹ کے ذریعہ دنیا کے مختلف ممالک میں مشرق و مغرب میں ۔ اور جاپان تک بھی پہنچے فنی میں بھی پہنچے ، ماریشس میں بھی پہنچے ، یورپ کے ممالک میں بھی پہنچ جائے۔ غرضیکہ جہاں جہاں بھی جس جماعت کو توفیق ہے کہ خطبہ سننے کے انتظامات کر سکے ان تک یہ آواز آج براہ راست پہنچ رہی ہے۔ اس پہلو سے یہ ایک عظیم تاریخی دن ہے کہ آج قادیان سے محمد مصطفی کے کامل غلام کے ایک ادنی غلام کی آواز ، آپ ہی کی آوازیں بن کر تمام عالم میں پھیل رہی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس سعادت کے نتیجہ میں ہمیں مزید شکرگزار بندے بننے کی توفیق عطا فرمائے اور اس شکرگزاری کا آغاز اس بات سے ہونا بنے کا چاہئے کہ جو لوگ اس بات کیلئے سعادت کا ذریعہ بنے ان کو بھی دعاؤں میں یادرکھیں ۔ صرف یہی نہیں بلکہ اور بھی بہت سے ہیں جنہوں نے ان انتظامات میں بہت ہی کوشش اور بہت ہی محنت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔ قادیان کے جلسے کے انتظامات رسمی طور پر تو شاید کل یا پرسوں شروع ہوں گے۔ لیکن ان انتظامات کا آغاز بہت پہلے سے ہو چکا ہے۔ انگلستان میں آفتاب احمد خان صاحب جو یونائیٹڈ کنگڈم (United Kingdom) کے امیر ہیں ۔ وہ خصوصیت سے اس معاملہ میں میری مدد کرتے رہے ب بنانے کے لئے جو ہیں اور بہت ہی حکمت ، ذہانت اور مسلسل بڑی محنت کے ساتھ اس جلسے کو کا کامیاب بنانے -