خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 985
خطبات طاہر جلد ۱۰ 985 خطبه جمعه ۲۰ دسمبر ۱۹۹۱ء وجہ ہے کہ قرآن کریم آپ کو وسیلہ قرار دیتا ہے یعنی وہ واسطہ ہیں جن کے ذریعہ سے تمام روحانی فیوض ، تمام بنی نوع انسان کے لئے ہمیشہ کے لئے جاری کئے گئے ۔ یہی قرآن کریم ہمیں نصیحت فرماتا ہے۔ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (الرحمن : (۶) کیا احسان کی جزاء احسان کے سوا بھی ہو سکتی ہے۔ احسان کی جزاء تو احسان ہی ہونی چاہئے لیکن مشکل در پیش ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ کا احسان اتنا عظیم اور اتنا وسیع اور اتنا دور رس ہے کہ لامتناہی ہے ۔ اس کی حدود قائم کرنے کا صلى انسان کے ادراک کو اختیار نہیں ہے۔ صلى الله میں نے جب بھی غور کیا ہے اور گہرا غور کیا ہے اور نظر کو ہر طرف دوڑایا اور پھیلایا اور سوچا کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے احسانات کا احاطہ کر سکوں اور ان کے متعلق ایک ایسا شعور پیدا کر سکوں عليه ۔ کہ ہر دفعہ اس احسان کو پہچان لوں تو میں اس کوشش میں ہار گیا اور کوشش کے باوجود آج بھی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ بہت سے احسانات ہیں جو ہم پر وارد ہوتے چلے جاتے ہیں اور ہم غفلت کی حالت میں ان سے آگے نکلتے چلے جاتے ہیں۔ صبح جب آپ اٹھتے ہیں اور اپنے بدن کو پاک اور صاف کرتے ہیں، خدا تعالیٰ کی یاد کی صلى الله عليم اتے ہیں تو کتنے ہیں جو باقاعدہ بلا استثنا حضرت محمد مصطفی ﷺ کا تصور دل میں لاتے طرف دل کو لگاتے ہیں تو ہیں یالا سکتے ہیں کہ یہ ہمارے آقا و مولی کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اچھی صبح کا آغاز سکھایا۔ یا پھر سارا دن آپ کا مختلف حالتوں میں گزرتا ہے، کہیں بدیوں سے بچنے کی کوشش میں ، کہیں نیکیوں کی طرف میلان کی صورت میں ، کہیں کسی غریب پر رحم کے نتیجے میں آپ کے دل میں ایک خاص روحانی لہر دوڑتی ہے لیکن کتنے ہیں جو سوچتے ہیں کہ یہ سب فیوض حضرت محمد مصطفی اللہ ہی کے فیوض ہیں۔ آپ نے سب کچھ سکھایا ہے، ایسے کامل معلم ، ایسے کامل مربی کہ آپ نے انسانی ضرورتوں کی ہر چیز کا احاطہ کر لیا۔ یہ درست ہے کہ یہ احاطہ خدا تعالیٰ کے اس پاک کلام نے کیا جو آپ پر نازل ہوا لیکن اس لامتناہی پاک کلام کے فیوض کو اپنی ذات میں جاری کر کے ایک نمونہ بن کر ہمارے سامنے ابھرے ۔ یہ احسان ہے جو حضرت محمد مصطفی ال عمل کا احسان ۔ کا احسان ہے ورنہ وہ پاک کلام ہماری حد ادراک سے باہر رہتا۔ ہم قرآن آج بھی تو پڑھتے ہیں ۔ کتنے ہیں جو قرآن کے معارف کو براہِ راست پاسکتے ہیں اور ان کے مطالب کو پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن وہ مطالب جو ہم نے پالئے اور ان میں سے بھی بہت الله۔