خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 966
خطبات طاہر جلد ۱۰ 966 خطبه جمعه ۱۳ دسمبر ۱۹۹۱ء لگنی شروع ہوا اور دوستوں کو لا کر یعنی غیر احمدی دوستوں کو بھی لا کر وہاں بٹھایا جائے اور وہاں کے آڈیو ویڈیولر پیچر سے استفادہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ اس سنٹر میں ایسا رجسٹر ہونا چاہئے جہاں مطالبات کا اندراج ہو۔ اس کے کھلنے کے با قاعدہ اوقات مقرر ہونے چاہئیں ۔ مطالبات کا اندراج ان معنوں میں ہو کہ ایک شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے فلاں فلاں کتب کی ضرورت ہے لیکن وہ کتابیں ان کے پاس نہیں ہیں تو وہاں سیکرٹری ہو خواہ وہ مستقل طور پر تنخواہ دار ملازم کے طور پر رکھا گیا ہو یا جیسا کہ بہتر رواج ہے کہ کوئی رضا کار اپنا وقت دے کر وہاں بیٹھا ہو اور اس کا فرض ہو کہ کسی رجسٹر پر ایسے مطالبات درج کریں اور کارروائی کے خانہ میں بعد ازاں یہ درج کرے کہ اس مطالبے کی کب تعمیل ہوئی ورنہ بعض دفعہ ۶ -۶ مہینے کے بعد لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ جی ہم فلاں جگہ گئے تھے اور وہاں ہم نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ فلاں لٹریچر بھیجا جائے ، فلاں کیسٹ مہیا کی جائے اور ہمارے دوست آج تک مانگتے ہیں اور ہم شرمندہ ہیں لیکن ہمیں اب تک وہ مہیا نہیں کی گئی ۔ پوچھنے والے بھی چھ چھ مہینے کے بعد بتاتے ہیں اور اس وقت یہ بھی نہیں پتہ لگتا کہ کس سے پوچھا گیا تھا۔ کہاں یہ مطالبہ درج ہے اس لئے لٹریچر کا مطالبہ ہو یا آڈیو ویڈیولیسٹس کا ہولا ز ما کسی رجسٹر میں وہ مطالبات درج ہونے چاہئیں اور ان پر کارروائی کا خانہ خالی رہے جب تک وہ کار روائی ہو نہیں جاتی اور اگر کچھ عرصہ تک کارروائی نہیں ہوتی تو یہ اندراج ہو کہ کیوں کارروائی نہیں ہوئی اور ایسی باتیں جن کا مجبوریوں سے تعلق ہو مثلاً کوشش کے باوجود وہ چیز دستیاب نہیں ہو رہی تو ان کے متعلق مجھے بھی لکھنا چاہئے ۔ جہاں روز مرہ کی کاروائی ہورہی ہے وہاں ہورہی مجھے لکھنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن جہاں کوئی مشکل در پیش ہو، کوئی روک پیدا ہو جائے تو وہاں ضرور مجھے اطلاع کرنی چاہئے کہ فلاں ملک میں فلاں دعوت الی اللہ کے کام کے سلسلہ میں یہ روک ہمارے رستہ میں حائل ہوئی ہے تا کہ حتی المقدور اس کو دور کرنے کی کوشش کی جائے ۔ اس کے علاوہ ایک ایسار جسٹر ہونا چاہئے جس میں مخالفین کی جوابی کارروائی یا ابتدائی طور پر ان کی طرف سے جماعت کے خلاف معاندانہ کارروائیوں کا ذکر ہو کر آگے کارروائی کے خانہ میں یہ ذکر کیا جائے کہ ہم نے اس کے جواب میں کیا اقدامات کئے ہیں۔ بعض دفعہ ایسی باتیں علم میں آتی ہیں جن کے متعلق جوابی کارروائی کرنے کا کوئی اپنے آپ کو ذمہ دار ہی نہیں سمجھتا ۔ وہ سمجھتے ہیں ہر