خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 939
خطبات طاہر جلد ۱۰ 939 خطبه جمعه ۲۹ نومبر ۱۹۹۱ء بڑا کام کر رہے ہیں ۔ بعض دوستوں سے جب کبھی ملاقات ہوئی اور تبلیغ کی بات ہوئی تو انہوں نے بتایا تھا کہ ہم تبلیغ کر رہے ہیں مگر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ جب مزید پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہواوٹنس والوں سے وہ اپنا سرکھپا رہے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو تمام عیسائیوں میں سب سے زیادہ متعصب اور Rigid ہیں۔ ان کی عقلی حالت ایسی ہے کہ ان کے اندر بدلنے کی صلاحیت نہیں ہے اور ایک خاص قسم کا دماغ ہی ہے جو یہو اوٹنٹس بنتے ہیں۔ یہواؤٹنس کے لئے جو صلاحیتیں چاہئیں ان میں دماغ کی کروکڈ نیس Crookedness ضروری ہے اور کچھ نظر کی تنگی ضروری ہے۔ اس کے بغیر اچھا یہوا ونٹس بن ہی نہیں سکتا تو وہ الا ماشاء اللہ بعض کہیں ایسے نکل آتے ہیں جو یہوا وٹنس بننے کے اہل نہیں ہوتے پھر بھی بن جاتے ہیں اور ایک احمدی ان کو ان ٹھوکروں سے بچا بھی لیتا ہے۔ مثلاً جاپان سے مجھے ایک خط ملا جس سے پتہ لگا کہ ایک یہوا وٹنس والا اتنا سعید فطرت تھا کہ چند باتوں میں ہی اس کا دل یہووا ویٹنس سے ہٹ کرا سلام کی طرف مائل ہو گیا لیکن وہ دور کی قومیں ہیں ۔ ان کو عیسائیت کا اتنا زیادہ گہرائی سے علم نہیں اور گہرائی سے اتنا تعلق نہیں ہے مگر عیسائیوں میں بعض تبلیغی فرقے ایسے ہیں جو دماغ کی کمزوری اور صلاحیتوں کے منجمد ہونے کی وجہ سے مذہبی بنے ہوئے ہیں۔ مولویت کے لئے بے وقوفی کا ہونا ضروری ہے اور جہاں بے وقوفی ضد میں بدل جائے وہاں آپ جو چاہیں کریں آپ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے تو ان کو میں نے سمجھایا۔ میں نے کہا تم کیوں اپنا وقت ضائع کر رہے ہو اور اگر یہوا وٹنس والوں سے بات کرنی ہے تو کم سے کم پتہ تو کرو کہ ان کو کس یہواؤنس سے کم طرح گلے سے اتارا جا سکتا ہے ۔ یا وہ سیدھے ہوں یا تمہیں منہ دکھانے کے لائق نہ رہیں ان سے گفتگو کی طرز اور ہونی چاہئے ۔ اس قسم کی ایک خاتون ایک دفعہ مجھ سے ملنے تشریف لائی تھیں ۔ گفتگو کرنے لگیں۔ میں نے کہا تم مجھے پہلے بتاؤ کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت مریم اور خدا کے تعلقات کیا ہیں۔ وہ واقعہ بیٹا ہیں۔ ہاں جی بالکل پکا بیٹا اس میں تو شک کا کوئی سوال ہی نہیں ۔ میں نے کہا تو حضرت مریم پھر ماں ہوئیں۔ تو کہا کہ طبعی بات ہے ماں ہیں۔ خدا باپ ہے تو حضرت مریم پھر خدا کی بیوی کہلائیں ناں ۔ اگر وہ نکاح نہیں ہوا تو پھر رشتہ جو ہے بڑا گندا رشتہ قائم ہوا اور ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق سے کوئی گندہ رشتہ قائم ہو اور اگر نکاح ہوا ہے یعنی آسمان پر ہی ہوا ہو ضروری نہیں کہ دنیا میں پڑھایا گیا ہو تو پھر منکوحہ بیوی بن گئی ہیں ۔ اب مجھے اگلا مسئلہ یہ سمجھاؤ کہ