خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 937 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 937

خطبات طاہر جلد ۱۰ 937 خطبه جمعه ۲۹ نومبر ۱۹۹۱ء نظر انداز نہ کریں کہ وہ سمجھنے میں دیر کر رہا ہے یا کسی اور وجوہات کی وجہ سے اس کے لئے قبول کرنا مشکل ہے۔ اگر اس کی فطرت میں صفائی ہے اگر اس کے اندر جھوٹ اور تعصب نہیں ہے تو خواہ دوسری کتنی ہی برائیاں کیوں نہ ہوں اس کی اصلاح ممکن ہے۔ اس لئے بد کہہ کر کسی کو نہیں چھوڑ ناور نہ جس طرح حسن سب میں ہے بدیاں بھی سب میں ہوتی ہیں۔ آپ کو بنا بنایا فرشتہ تو تبلیغ کے لئے نہیں ملے گا۔ اگر بنا بنا یا فرشتہ ہے تو پھر شاید وہ آپ کو تبلیغ شروع کر دے کیونکہ آپ میں اس کی نسبت زیادہ برائیاں ہوں گی ۔ پس برائیوں کے نتیجہ میں نہیں چھوڑنا۔ ایک بات یاد رکھیں قرآن کریم نے ابتدا میں جو تعریف فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ جس کے اندر سچائی کی روشنی نہیں ہے، جس کی طبیعت میں کجی ہے اس کی آپ اصلاح نہیں کر سکتے ۔ جتنا چاہیں آپ اصلاح کی کوشش کریں ان کی آپ اصلاح نہیں کر سکتے ۔ اسی مضمون کو کچھ آیات کے بعد مزید کھولتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ( البقرة :۸) ان کی اندرونی کبھی ان کی صلاحیتوں کی راہ میں حائل ہو گئی ہے۔ صلاحیتیں تو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو عطا فرمائی ہیں۔ کان بھی ہیں لیکن کانوں پر پردے پڑ گئے ہیں ، کان بھاری ہو گئے ہیں، کانوں کے اوپر بوجھ پڑ گئے ہیں، آنکھیں ہیں لیکن آنکھوں کے اوپر پردے پڑ گئے ہیں، دل ہیں مگر دل اندھے ہو چکے ہیں۔ ایسے لوگ ہیں جن کے اوپر مہریں لگی ہوئی ہیں۔ پس مہر زدہ آدمیوں پر بے وجہ لمبے وقت ضائع کرنا یہ درست نہیں ہے۔ آپ کے قیمتی وقت کا ضیاع ہے لیکن اس کے مقابل پر ایک اور بات سے بھی احتیاط بہت لازم ہے کہ یہ کہہ دیا جائے کہ جی! یہ سارا علاقہ ہی مہر زدہ ہے ۔ ان میں ہدایت قبول مہرز ۔ کرنے کا مادہ ہی کوئی نہیں ۔ یہ جو عام فتوی دینا ہے یہ ایک بہت خطرناک بات ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اپنی کمزوریوں کو خدا تعالیٰ کی تقدیر کے سر پر تھوپنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گویا خدا تعالیٰ نے ساری زمینیں ہی بنجر پیدا کی ہیں آپ بے چارے کیا کر سکتے ہیں۔ جب زمینوں نے قبول ہی نہیں کرنا تو آپ کا کیا قصور اس لئے اس فتوی میں جلدی نہیں کرنی چاہئے لیکن حکمت اور گہرائی کے ساتھ جائزہ لے کر انفرادی طور پر یہ فتوی دیا جا سکتا ہے اور جن لوگوں میں آپ ضد اور تعصب دیکھیں ان کو چھوڑ کر سعید فطرت لوگوں کی طرف متوجہ ہوں ۔