خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 896 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 896

خطبات طاہر جلد ۱۰ 896 خطبه جمعه ۱۵ نومبر ۱۹۹۱ء کے آغاز میں بھی یہ دعا کریں اس سفر کے دوران بھی یہ دعائیں کیا کریں۔ محاسبہ کرتے وقت بہت سی باتوں کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔ مثلا سفر سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس وقت آپ کسی مقام پر کھڑے ہیں تمام حالات کا جائزہ لینا اور اور یہ دیکھنا کہ ہم کون کون سے ذرائع استعمال کر رہے ہیں یہ محاسبے کے لئے ضروری ہے لیکن اس کو حقیقت کی نظر سے دیکھنا ہوگا رپورٹوں کی زبان میں نہیں پڑنا بلکہ واقعہ جانچنا ہے ، دیکھنا ہے ، پر کھنا ہے کہ جو کچھ ہونا چاہئے وہ ہو بھی رہا ہے کہ نہیں اور کتنا ہو رہا ہے۔ اب کہنے کو تو سب کام کرنے والے یہ کہتے ہیں کہ جو جو ذرائع ہمارے اختیار میں تھے ہم نے پورے کر لئے ہم نے خطوط لکھے ہم نے تمام احباب جماعت کو بار بار متوجہ کیا ، ان کو بتایا کہ لٹریچر کے ذریعے، دوسرے ذرائع سے تعلقات بڑھا کر ، دعوتیں کر کے، ویڈیو دکھا کر ، آڈیو سنا کر اس طرح تم تبلیغ کرو ہم سب کچھ کر چکے ہیں لیکن نتیجہ ابھی نہیں نکلا۔ تو جو سب کچھ کر چکے ہیں ان میں پہلے دیکھنا یہ ہے کہ وہ کر بھی چکے ہیں کہ نہیں؟ اس چیز نے آگے جا کر عملی جامہ پہنا ہے کہ نہیں لیکن جو سیکرٹری تبلیغ ہے جب وہ یہ لکھ دیتا ہے تو اپنی رپورٹ میں ہمیں مطا کہ ہم نے سب ذرائع اختیار کر لئے حالانکہ یہ درست بات نہیں ۔ اگر سیکرٹری تبلیغ کھیت کے کنارے پر جا کر دیکھے کہ وہاں پانی پہنچا بھی تھا کہ نہیں تو اس کو معلوم ہوگا کہ وہ سب زبانی جمع خرچ تھا۔ جہاں یہ باتیں عمل میں ڈھلنی چاہئیں وہاں یہ باتیں ہی رہیں اور عملاً کچھ بھی نہیں ہوا یا ہوا تو ایک دو کے سواکسی نے کچھ نہیں کیا اور پھر جس نے جس طرح کیا اس پر نظر رکھنا یہ ایک بہت وسیع مضمون ہے۔ آج کے کیا خطبہ میں تو اس کو بیان کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ لیکن آئندہ انشاء اللہ اگر کوئی اور مضمون ایسا نہ ہوا جس کو پہلے بیان کرنا ضروری ہو تو میں اس کو مزید تفصیل سے آپ کے سامنے رکھوں گا۔ سر دست میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ امراء کو ان باتوں کی روشنی میں اور جو مزید باتیں میں ان کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں ، نئے سرے سے اس سارے کام کو ترتیب دینا چاہئے۔ مجلس عاملہ کی ایک میٹنگ کافی نہیں ہے ۔ بار بار ایسی میٹنگز بلانی پڑیں گی۔ اگر ہنگامی طور پر چند دن کی رخصتیں لے کر بھی سب کو اکٹھا دن رات بیٹھنا پڑے تو ایسا کریں لیکن مقصود یہ پیش نظر ہوگا کہ ہم نے اپنی گزشتہ حالت پر راضی نہیں رہنا کیونکہ بہت بڑا کام ہے جو ہمیں کرنا ہے اور اگر ہم نہیں کریں گے تو ہم خوابوں میں بس رہے ہوں گے اور اگر اس حالت میں ہم نے جان دے دی تو پھر میر درد کا یہ شعر ہم پر