خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 888 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 888

خطبات طاہر جلد ۱۰ 888 خطبه جمعه ۱۵ نومبر ۱۹۹۱ء اور بالا رادہ طور پر تحقیق کے بعد یہ بات میں نے بیان نہیں کی تھی بلکہ تعلیم کے زمانے میں جو گزشتہ تفسیریں پڑھی تھیں ان میں یہی بات یاد تھی اور اسی طرح میں نے بیان کر دی۔ سالک صاحب نے برما سے مجھے خط لکھا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ تفسیر کبیر میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس نظریے کو قرآن کریم کی آیات کے حوالے اور استدلال کے ساتھ بالکل غلط کر کے دکھایا ہے۔ چنانچہ ان کے توجہ دلانے پر جب میں نے دیکھا تو واقعہ حضرت مصلح موعودؓ نے اس نظریے کے خلاف ایسے مضبوط دلائل پیش فرمائے ہیں کہ جن کے بعد کسی دور کے داہمہ کا بھی سوال نہیں رہتا کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے خسر کو شعیب قرار دیا جائے ۔ مختلف دلائل میں ایک یہ آیت آپ نے پیش فرمائی۔ فرمایا کہ قرآن کریم میں سورہ اعراف آیت ۱۰۴ میں درج ہے ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ مُوسَى بِايَتِنَا إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَا بِهِ فَظَلَمُوا بِهَا فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ فرماتے ہیں سورہ اعراف میں یہ ذکر شعیب کی قوم ( کی ہلاکت) کے بعد فرمایا گیا ہے ۔ شعیب کی قوم کا ذکر مکمل کرنے کے بعد قرآن کریم فرماتا ہے ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ مُوسَى پھر ہم نے ان کے بعد موسیٰ کو بھیجا۔ بایتنا اپنے کھلے کھلے نشانات کے ساتھ الى فِرْعَوْنَ فرعون کی طرف ۔ وَمَلا نام اور اس کے سرداروں کی طرف فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ ۔ پس غور کر دیکھ کہ کیسا مفسدوں کا انجام ہوا کرتا ہے۔ تو یہ آیت اس معاملہ میں اتنی قطعی ہے کہ اس کے پڑھنے کے بعد یعنی حضرت مصلح موعود کی نظر سے پڑھنے کے بعد یہ حیرت ہوتی ہے کہ پرانے مفسرین کی نظر سے کس طرح یہ آیت رہ گئی اور اس میں کوئی قصور نہیں ہوا کرتا۔ ایک دفعہ بات چل نکلے تو نظر پر ایک پردہ سا آجاتا ہے۔ سینکڑوں مرتبہ قرآن کریم پڑھا ہے لیکن میرا بھی اس طرف خیال نہیں گیا کہ یہ آیت تو کھلا کھلا اس نظریے کی ترید کر رہی ہے کہ حضرت شعیب حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے خسر تھے۔ اللہ تعالیٰ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غریق رحمت فرمائے بے انتہاء بلند مرتبے عطا فرمائے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد جیسی خدمت قرآن کی آپ کو توفیق ملی ہے، جس طرح قرآن کے معارف کو غو طے لگا کر باہر نکال کر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی توفیق ملی ہے اس کی کوئی نظیر کہیں اور نہیں ملتی۔ ایسے مفسر صدیوں میں نہیں ، ہزاروں سال میں پیدا ہوتے ہیں۔