خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 844
خطبات طاہر جلد ۱۰ 844 خطبه جمعه ۲۵ را کتوبر ۱۹۹۱ء سے اوپر رستہ جاتا ہے میں گواہ ہوں کہ ہمارا سارا گاؤں احمدی تھا اور آج تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں ہمارے گھر میں پڑی ہوئی ہیں کوئی آدمی جا کر دیکھنا چاہے تو لائبریری میں آپ کی کتابیں ملتی ہیں ۔ اثر کی وجہ پھر صوبہ سرحد کے ایک اور آدمی نے گواہی دی جو ایک وقت میں مرکزی حکومت کے وزیر بھی رہے کہ ان کے والد بھی احمدی ، ان کے خاندان میں بہت سے احمدی اور اس علاقے میں ان کے وجہ سے بہت سے احمدی ہوئے ہوئے لیکن بعد میں سیاست کی وجہ سے ملاں کے زور کی وجہ - وجہ سے وہ لوگ دب گئے تو انہوں نے کہا کہ دل سے تو میں آج بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سچے ہیں اور میں ابھی بھی بعض دفعہ ان کتابوں کا مطالعہ کرتا ہوں جو میرے والد کی لائبریری میں ہیں مگر ہمت نہیں سیاست کی کمزوری ہے اس کی وجہ سے توفیق نہیں کہ کھل کر کہہ سکوں ۔ یہ بھی بتایا کہ میرے والد مجھے قادیان لے جایا کرتے تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے مصافحہ کی خاطر مجھے کہا کرتے تھے کہ آؤ میرے ساتھ چلو ( مصافحہ نہیں کہنا چاہئے آپ کے قرب کی سعادت حاصل کرنے کے لئے صحبت کی سعادت حاصل کرنے کیلئے ) کہتے ہیں جب میں پہلی دفعہ گیا تو میں نے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھا دیا تو میرے والد نے زور سے ہاتھ مار کر کلائی سے میرے بازو کو نیچے کیا اور کہا کہ گھٹنوں کو ہاتھ لگاؤ تم اس لائق نہیں ہو کہ مصافحہ کرو۔ تو یہ سیاسی لحاظ سے علاقہ کے بہت معزز انسان تھے اور دل میں گہری عقیدت بھی تھی اور بچوں پر بھی اس کا اثر رہا لیکن نام کے لحاظ سے وہ احمدی نہیں ۔ تو چونکہ یہ دور حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے دیکھے ہوئے تھے اور ان کے بعد کے اثرات کا میں نے مطالعہ کیا اس سے مجھے یقین تھا اور اب بھی یقین ہے کہ اگر ان سب کو شامل کر لیا جائے اور وہ خاندان یا وہ علاقوں کے علاقے جو کسی زمانہ میں احمدی ہوئے اور بعد میں کمزوری دکھا گئے تو علاقے: یقیناً اس تعداد میں جو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے بیان فرمائی کوئی مبالغہ نہیں ہے لیکن جہاں تک ارادے یا نیت کا تعلق ہے اس میں مبالغے کا سوال ہی کوئی نہیں پیدا ہوتا ۔ اب رہا یہ سوال کہ ایسا کیوں ہوا اور خدا تعالیٰ نے ایسا کیوں کرنے دیا۔ تو اس کے متعلق قرآن کریم کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ بعض دفعہ الہی حکمتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ایک جماعت اپنے آپ کو مد مقابل کے سامنے زیادہ سمجھے اور مد مقابل کو تھوڑا سمجھے۔ نسبت کی بات ہے اگر مد مقابل تھوڑا