خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 830 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 830

خطبات طاہر جلد ۱۰ 830 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۱ء سے بڑا قو میں بھی یہاں آباد ہیں اور سٹالن کے زمانے میں خصوصیت کے ساتھ بعض مسلمان علاقوں سے لوگوں کو ہانک کر یہاں لایا گیا اور یہاں بسایا گیا۔ اس میں تاتاری قو میں بھی موجود ہیں قازان ایک شہر ہے جہاں بڑی تعداد میں تاتاری مسلمان بستے ہیں تو اگر چہ دوسری قو میں بھی ہیں مگر رشیا کی ریاست میں زیادہ تر یورپین ہیں اور یہ روس کی یعنی جسے ہم روس کہتے ہیں ، اس کی سب سے بڑی طاقتور اور سب سے بڑے رقبے پر پھیلی ہوئی ریاست ہے۔ اتنی بڑی ہے کہ اکیلی یہ ریاست امریکہ ، بڑی ہے۔ اس - اس اسے بڑی یا اس کے لگ بھگ ہو گئی قریباً بہت بڑا رقبہ ہے۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ روس میں نہ صرف یہ کہ روس لفظ کو یہاں یورپین حصے پر چسپاں کیا جاتا ہے بلکہ اگر آپ اجنبی ہیں اور ان باتوں کو نہیں جانتے اور بعض دوسری ریاستوں میں ان لوگوں کو روسی کہہ کر مخاطب کریں گے تو وہ ناراض بھی ہو سکتے ہیں اور بعض بھڑک بھی سکتے ہیں کیونکہ آج کل خصوصیت کے ساتھ U۔S۔S۔R میں روسی ریاست کے خلاف دوسری ریاستوں میں بڑی سخت رقابت پیدا ہو رہی ہے اور بعض جگہ تو شدید نفرت ہو رہی ہے چنانچہ حالیہ زمانہ میں جو محققین وہاں دورے پر گئے گئے ہیں اور واپس آکر انہوں نے مقالہ جات لکھے ہیں ان کے پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ بعض علاقوں میں تو شدید نفرت کی لہریں چل پڑی ہیں اور روسی لفظوں کو جو پہلے عام جگہ جگہ بورڈوں پر آویزاں دکھائی دیتے تھے یا روز مرہ کی سٹرکوں پر رستے دکھانے کے لئے ہدایات کی شکل میں روسی لفظ استعمال ہوتے تھے وہ سارے بورڈ اب ختم کر دیئے گئے ہیں اور ان سب روسی لفظوں کو بدل کر مقامی زبانوں کے لفظوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ۔ ایک لفظ مثلا مگاسان Magazin ہے جو غالباً فرنچ میں بھی دوکان کو کہتے ہیں روسی زبان میں بھی مگاسان یا میکسین (اس کا تلفظ مجھے صحیح یاد نہیں ) دکان کو کہتے ہیں ۔ اب بخارا اور سمرقند ، تاشقند رو غیرہ ان سب جگہ تمام وہ دو کا نیں جن پر پہلے یہ لفظ لکھا ہوا تھا اب وہاں دوکان لکھ دیا گیا ہے اور ضمناً آپ کو یہ بھی بتاؤں کہ ان کے ہاں مشرقی علاقوں میں جو مقامی زبانیں ہیں ان میں بہت سے ایسے لفظ ہیں جو اگر غور سے سنیں جائیں تو معلوم ہوگا کہ اردو میں بھی مستعمل ہیں۔ صرف تھوڑا سا تلفظ کا فرق ہے چنانچہ روسی مہمان جو ہمارے جلسہ پر تشریف لائے ہوئے تھے بعد میں جب ان کے ساتھ مجالس ہوئیں تو ایک سے زائد مرتبہ اس طرح ہوا کہ جب یہ آپس میں بات کر رہے تھے تو ترجمہ کرنے سے پہلے میں نے ان کو بتا دیا کہ میں سمجھ گیا ہوں میں اس کا