خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 821 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 821

خطبات طاہر جلد ۱۰ 821 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۱ء روس میں دعوت الی اللہ کیلئے واقفین عارضی کی تحریک اسلام کی جنگ جماعت احمد یہ کے سواکسی نے نہیں لڑی۔ ( خطبه جمعه فرموده ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۱ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا :۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو نشوونما کی ایک صلاحیت عطا فرما رکھی ہے بدی کو بھی نشوونما کی صلاحیت ہے اور نیکی کو بھی نشوونما کی صلاحیت ہے بلکہ زندگی کے ہر ذرے میں خدا تعالیٰ نے یہ دونوں اور نیکی کو کی ہے قسم کی صلاحیتیں رکھی ہوئی ہیں ۔ صرف یہ بات نہیں کہ بعضوں میں دوسروں پر غلبہ پانے کی طاقت ہے بلکہ اندرونی طور پر زندگی اور موت کی جدو جہد ہر ذرے میں جاری ہے خواہ وہ ظاہری طور پر زندگی رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو اس کے باوجود زندگی کے لفظ کا اطلاق وسیع ترین معنوں میں خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ ہر مخلوق پر ہوتا ہے اور موت اور زندگی کی جدو جہد جس کا ذکر قرآن کریم میں سورہ ملک کی پہلی آیت میں ملتا ہے، یہ ایسا نظام ہے جس کا تعلق ہر مخلوق سے ہے چنانچہ وہ Protons جن کے متعلق پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ یہ ابدی ہیں اور کبھی مٹ نہیں سکتے ان کے متعلق اب اکثر سائنس دان یہ یقین کر چکے ہیں کہ ان کی زندگی بھی بہر حال اختتام پذیر ہوگی اور یہاں زندگی سے مرادان کی بقا کا عرصہ ہے۔ اندرونی طو ر پر ان کے اندر ایک موت کا نظام بھی جاری ہے اور جو چیز ایک دفعہ پیدا ہو جائے اس نے بہر حال مٹنا ہے اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے: كُلِّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَالِ وَالْإِكْرَامِ (الرحمن: ۲۷، ۲۸) تو اس میں بھی اللہ کے وجہ " میں بھی اللہ کے وجہ کا ذکر فرمایا۔ وہ