خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 801 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 801

خطبات طاہر جلد ۱۰ 801 خطبه جمعه ۴ را کتوبر ۱۹۹۱ء نتیجہ وہی نکلے گا کہ بات کفر کی بن جائے گی۔ اب میں یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ یہ صاحب جن کے دور میں یہ سب کچھ ہوا ہے بہت ہی ہوشیار آدمی ہیں ۔ بڑی محنت کے ساتھ سلسلے کے کام بھی گئے ۔ بچوں کو پڑھایا ، بڑوں کے دل جیتے اور ان کی تائید میں باتیں ہوتی رہیں اور مطالبے سارے ایسے ہیں جو ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری خاطر ہیں اور ساتھ ہی مسلسل اپنا دامن بچاتے رہے کہ جی ! میں نے تو یہ اطلاع امیر صاحب کو کر دی ہے اور امیر صاحب بڑے تجربہ کار ہیں ، وہ بڑے سمجھ دار آدمی ہیں وہ آپ کو خود بتادیں گے اور سمجھ لیا کہ میں تو دونوں طرف سے بری الذمہ ہوں ۔ یہ بھی ایک سوچا جا سکتا تھا مگر میں یہ نہیں سوچتا۔ دماغ میں یہ احتمال پیدا ہوا بھی ہے لیکن یہ احتمال میں زبر دستی رد کرتا ہوں کیونکہ اس صورت میں مجھے ہر قدم پر اس کی نیت پر حملہ کرنا پڑے گا لیکن بے وقوفی اس حد تک کہ ان سب باتوں کے متعلق علم ہونا چاہئے جو جامعہ کے ایک بچے کو بھی علم ہونا چاہئے کہ یہ باتیں نظام سلسلہ کے خلاف ہیں۔ ان پر اپنی ذمہ داری محسوس کرنے کی بجائے اس ذمہ داری کو اپنے افسر بالا کی طرف انسان منتقل کرتا چلا جائے اور اس پر خاموش بیٹھا ر ہے اور جماعت میں ہر دلعزیز رہے۔ یہ بہت خطرناک بات ہے اگر یہ بے وقوفی کا فتنہ ہے تو بہت ہی سخت فتنہ ہے۔ ایسا مبلغ جو قابل اعتراض باتوں پر ٹوکتا ہو اور سختی سے آگے مقابلہ کرتا ہو وہ ہر دلعزیز نہیں رہ سکتا اس کے خلاف باتیں آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ ساری جماعت اس کی تائید میں ہو کہ جی ! بہت ہی بہترین خدمت کرنے والا ہو اور باتیں یہ کر رہی ہو ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی نہ کوئی قصور کہیں واقعہ ہوا ہے۔ جماعت تو اس حد تک پکڑے گی جس حد تک بے وقوفی کے نتائج سامنے آئیں گے ۔ اگر نیت کا بھی فتور ہے تو جماعت کی پکڑ پر معاملہ ختم نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ جاری رہے گی کیونکہ وہ نیتوں کی کنبہ تک پہنچتا ہے اور پھر اس سلسلے کو جاری رکھتا ہے جب تک کہ اس شخص کی نیتیں کڑوے پھل بن کر اس کے سامنے ظاہر نہیں ہو جاتیں اس لئے نیتوں کے معاملے میں مجھ سے معافی نہ مانگیں۔ نہ میں اس میں دخل دیتا ہوں۔ نہ مجھے معافی کا حق ہے۔خدا سے معافی مانگیں اور اپنے آپ کوٹو لیں۔ مجھ پر الزام بے شک لگا ئیں کہ ضرورت سے زیادہ سختی کی ہم تو سادگی میں باتیں کرتے تھے۔ مجھے اس الزام کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ میں جماعت کو کسی فتنے میں ملوث نہیں ہونے دوں گا اور تا زندگی یہ میرا عہد ہے کہ خدا کی قسم! میرا ذرہ ذرہ بھی اس راہ میں فنا ہو جائے ،ساری