خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 799
خطبات طاہر جلد ۱۰ 799 خطبه جمعه ۴ را کتوبر ۱۹۹۱ء صلى الله موقعہ پر جب آنحضرت ﷺ نے تحریک فرمائی فرمائی اور بعض ایسے ہی اصحاب الصفہ تھے جن کے پاس کچھ نہیں تھا انہوں نے کلہاڑے پکڑے یا عاریہ لئے جنگل میں نکلے لکڑیاں اکٹھی کیں اور واپس آکر بیچیں جو کچھ ہاتھ آیا وہ خدمت دین میں پیش کر دیا۔ تو یہ بات ہمیشہ میرے پیش نظر رہی کہ لازماً اس میں کوئی پیشگوئی ہے ورنہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے غریبوں پر تو یہ اطلاق نہیں پارہی صلى الله اس زمانے کا جو فقر تھا وہ نور ایمان میں بدلا ہوا تھا اور کا د کا لفظ بتا رہا ہے کہ اس کے اندر تنبیہ ہے جو مستقبل سے تعلق رکھتی ہے اور بعض احتمالات سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ رسول لله نے ان غرباء میں کوئی کفر کی باتیں دیکھی تھیں ۔ مراد یہ تھی کہ وہ غرباء جو محمد رسول اللہ ﷺ کے صلى الله وسله صلى الله تربیت یافتہ نہ ہوں ان کے لئے خطرہ ہے جو نو رنبوت کے نیچے نہیں پلتے ان کے لئے خطرہ ہے کہ ان کا فقر کفر میں تبدیل نہ ہو جائے ۔ اور دوسرے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آئندہ کے زمانے کے متعلق یہ ایک بنیادی اصول بیان ہوا تھا کہ جو قو میں اپنے غریبوں کا فکر نہیں کرتیں ان کے غریبوں کی غربت بالآخر دہریت پر منتج ہو جایا کرتی ہے۔ پھر وہ خدا کے خلاف ہو جاتے ہیں، باغی ہو جاتے ہیں اور اشتراکیت کے عروج نے جو اس صدی کے آغاز میں شروع ہوا بعینہ وہ منظر پیش کیا ہے لیکن گزشتہ صدی میں اس کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں اور وہ بھی بعینہ اسی اصول پر کہ غربت کفر میں تبدیل ہو رہی تھی۔ پہلے غربت کے اثرات کے نتیجہ میں دہریت کا ایک فلسفہ وجود میں آیا ہے۔ پھر اس کے نتیجہ میں مارکس ازم ، لینن ازم پیدا ہوئے ہیں۔ دوسری طرف جب ہم قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یوتی الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِي خَيْرًا كَثِيرًا (البقره: ۲۷۰) اللہ تعالیٰ جس کو چاہے حکمت عطا فرماتا ہے اور جو شخص بھی حکمت دیا جائے ، جسے خدا تعالیٰ کی طرف سے حکمت عطا کی جائے۔ اسے گویا خیر کثیر عطا ہوگئی یعنی اسے زرکثیر عطا کیا گیا، کثرت سے مال دے دیا گیا۔ تو حکمت کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں زر کثیر کے طور پر پیش کیا۔ گویا حکمت کی کمی غربت ہے اگر حکمت کثرت مال پر دلالت کرتی ہے۔ یہ بالکل ایک دوسرے کا بر عکس ہیں اور بعینہ یہ مضمون دونوں جگہ صادق آتا ہے اگر حکمت مال ہے تو حکمت کی کمی غربت ہے اور حکمت کی کمی بھی لازما کفر میں تبدیل ہو سکتی ہے اور ہوتی رہی ہے۔ چنانچہ اس مضمون کو سمجھنے کے بعد اس محاورے کی