خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 715
خطبات طاہر جلد ۱۰ 715 خطبه جمعه ۳۰ اگست ۱۹۹۱ء ہے مگر خیر کی بات کو قبول کرتا ہے۔ بھلائی کی بات کو قبول کرتا ہے بدی کی بات کو رد کر دیتا ہے اور اس کا أذن ہونا تمہارے لئے بہتر ہے۔ اگر یہ تم لوگوں کی باتیں نہ سنتا اور اپنے بالا خانوں میں چھپا رہتا تو بانوں میں چھپا رہتا تو صلى الله ۔ تم ہمیشہ روتے رہتے کہ ہماری بات حضرت ہماری بات حضرت محمد مصطفی علی تک نہیں پہنچتی ۔ یہ تو خدا کا ایسا عاجز بندہ عليه ہے کہ اس کے عاجز ترین بندوں کے لئے بھی جھک جاتا ہے اور ان کی باتیں بڑے پیار اور محبت سے سنتا ہے تم ایسے ظالم اور ناشکرے ہو کہ اس کے خلاف شکایت کر رہے ہو اور یہ نہیں جانتے کہ اس کا ان معنوں میں اذن ہونا کہ کامل انکساری کے ساتھ ہر ایک کے سامنے جھک جانا اور ان کی باتوں کو سننا اور پھر یہ فیصلہ کرنا کہ اچھی کون سی ہے اور بری کون سی ہے تمہارے لئے فیض ہی فیض ہے۔ اب اس دور میں بھی جماعت میں جو فتنے اٹھتے رہے ہیں ان کا آغاز تو اسی طرح ہوا جیسے کہ ابلیسیت کا ہوا۔ اَنَا خَيْرٌ مِنْہ پہلے کسی ایک شخص سے ٹکر لی گئی ہے اور کہا کہ ہم اس سے بہتر ہیں۔ چاہے خلیفہ وقت نے مقرر کیا ہے یا جو بھی اس کی حیثیت ہے ہم اس سے بہتر ہیں اور پوری طرح اس کے تابع نہیں ہو سکتے ۔ پھر خلیفہ وقت پر حملہ کرنے کے لئے یہ بہانے بنائے گئے کہ یہ فلاں کی باتیں سنتا ہے چنانچہ میں نام نہیں لینا چاہتا مگر جماعت احمدیہ میں میرے دیکھتے دیکھتے بار ہا ایسی باتیں ہوئیں ۔ ایک شخص ہے کسی نے کسی کو اپنا ہدف بنالیا کسی نے کسی کو ہدف بنالیا۔ بعض کہا کرتے تھے کہ خلیفہ المسیح الثالث ، مولوی ابوالعطاء صاحب کی باتیں سن کر ہمارے خلاف ہو گئے ۔ یہ فلاں شخص کی باتیں سن کر ہمارے خلاف ہو گیا ، یہ فلاں امیر کی باتیں سن کر ہمارے خلاف ہو گیا ہے۔ یہ بالکل وہی فتنہ ہے جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے اور جس کو رد فرمادیا گیا ہے۔ لیکن سادہ لوگ جن کو ان باتوں کا علم نہ ہو وہ ٹھوکر کھاتے رہتے ہیں اور جماعت جرمنی میں بھی اسی فتنے نے نیا سر اٹھایا اور امیر کے متعلق یہ کہا جانے لگا اور مجھے تعجب ہے کہ وہ لوگ جن کے دل میں امیر کے لئے یا نظام کے لئے کوئی غیرت تھی ان باتوں کو کیوں برداشت کرتے رہے؟ کیوں انہوں نے مقابل پر اٹھ کر یہ نہیں کہا کہ یہ تمہارے شیطانی خیالات ہیں، ان سے باز آؤ ورنہ میں تمہاری خلیفہ اسیح کے سامنے رپورٹ کروں گا لیکن سنتے رہے ہیں اندر اندر ایک دوسرے کے کان پکاتے رہے ہیں۔ اور وہ یہ باتیں تھیں مثلاً کہ جی امیر صاحب! یہ تو مبشر باجوہ کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں جو بات سنتے ہیں مبشر باجوہ کی سنتے ہیں اور اس معاملہ میں جو فتنے کی کھچڑی پک کر ابلی ہے تو مجلس عاملہ