خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 712 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 712

خطبات طاہر جلد ۱۰ 712 خطبه جمعه ۳۰ اگست ۱۹۹۱ء رہے کہ ہم آپ کے پاؤں کو چومنا چاہتے ہیں لیکن جانتے ہیں کہ آپ اپنی انکساری کی وجہ سے اور طبعی شرم کی وجہ سے اجازت نہیں دیں گے۔ لیکن میرے نزدیک ایسے فقروں کی اور پاؤں چوموانے کی نہ کوئی خواہش نہ اس کی ذرہ بھر قدر ہے خلیفہ وقت ایک نظام کا نمائندہ ہے خلیفہ وقت آپ سب مل کر نہ کی ذرہ ہیں اور آپ کی اجتماعی شکل میں ایک خلیفہ ہے جو آپ سب کی یعنی نظام جماعت کی عزت نہیں کرتا وہ جھوٹا ہے اگر وہ یہ کہے کہ میں خلیفہ وقت کی عزت کرتا ہوں۔ یہ ایسی باتیں ہیں جن کے متعلق قرآن کریم نے خوب کھل کر روشنی ڈالی تھی اور خوب اس معاملہ کو واضح فرمادیا اور بار بار واضح فرمایا قرآن کریم نے ایک موقع پر یہ مضمون بیان فرمایا کہ جو اللہ اور رسول کے درمیان تفریق کرتے ہیں اور بار بار یہ مضمون بیان فرمایا ان کے سارے اعمال ان کی ساری کوششیں رد اور ذلیل ہیں ۔ کوئی ان کی حیثیت نہیں رہتی ۔ شروع میں مجھے یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ اللہ اور رسول کے درمیان تفریق سے کیا ۔ مجھے یہ اور مراد ہے لیکن بعد کے تجربہ سے پتہ چلا کہ ایسے لوگ یہ کرتے ہیں ۔ کہتے یہ ہیں کہ دیکھیں زندگیاں قربان کر دیں گے لیکن امیر، یہ اور بات ہے۔ صدر خدام الاحمدیہ، یہ اور بات ہے، فلاں شخص کی اور بات ہے اس سے ہماری لڑائی اس سے ہماری دشمنی ، مگر خلیفہ وقت کے مقابل پر ہم بھلا کس کو خاطر میں لا سکتے ہیں تو خدا اور رسول کی تفریق بھی اسی قسم کے لوگ کرتے ہوں گے کہ رسول کی کسی بات پر نعوذ بالله من ذلك ناراض ہو کر کہہ دیا کہ خدا کی بات تو الگ ہوئی لیکن یہ کہ ہر بات میں رسول کی پیروی کریں یہ نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ شیطانی وساوس ہیں جو نچلے درجہ پر منتقل ہوتے ہیں پھر اور نچلے درجوں پر منتقل ہوتے ہیں بعض دفعہ امیر کے نیچے۔ پھر یہ صورت پیدا ہو جاتی ہے کہ امیر ہماری سر آنکھوں پر مگر اس کا فلاں عہدیدار ٹھیک نہیں اور یہ فتنہ پیدا کس طرح ہوتا ہے۔ اس کا آغاز خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے آغاز میں تمثیل کی صورت میں بیان فرمادیا جو میں بار بار بیان کر چکا ہوں لیکن جنہوں نے نصیحت نہیں پکڑنی ہوتی جو کان بہرے ہو چکے ہوں ان کو آواز آتی ہی نہیں ۔ وہ سمجھتے ہی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہ بہت گہرا راز فتنوں کا ہمیں سمجھا دیا کہ جب ابلیس نے ابی سے کام لیا تو اس کا ابی اس کا انکار دراصل اس کی انانیت کی گود میں پلا تھا۔ پہلے اس نے اپنے آپ کو بڑا سمجھا مگر خدا بڑا نہیں۔ خدا کے مقرر کردہ امیر سے بڑا سمجھا اس سے اپنے آپ کو بہتر سمجھا اور اس نے یہ نہیں کہا سے