خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 661 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 661

خطبات طاہر جلد ۱۰ 661 خطبه جمعه ۹ را گست ۱۹۹۱ء صحرا ہیں ۔ صحرا میں کھلنے والا لالے کا پھول ہیں جس کو کسی نے دیکھا ہی نہیں ۔ خاوند موجود ہے ساس موجود ہے دوسرا گھر بھرا پڑا ہے لیکن اس کی خوبیوں پر نظر ہی کوئی نہیں گویا وہ موجود ہی نہیں ہیں اور سخت محرومی کا شکار رہتی ہے۔ اسی طرح بیچارے وہ مرد ہیں جو بڑی خوبیوں کے مالک ہوتے ہیں لیکن جس گھر میں شادی کرتے ہیں وہ دنیا دار ہے۔ اُن کے نزدیک ان چیزوں کی اہمیت ہی کوئی نہیں ہے کہ کوئی دیندار ہے، کوئی نیک فطرت ہے، کوئی قدر شناس ہے۔ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ دنیاوی لحاظ سے یہ چالاک ہے کہ نہیں سمارٹ نظر آنے والا ہے کہ نہیں ، فیشن پرست ہے کہ نہیں ، سوسائٹی میں جاتا ہے کہ نہیں سیاستدان ہے کہ نہیں ۔ اس قسم کی چیزوں میں ان کو دلچسپی ہوتی ہے چنانچہ ایسا مرد بیچارایوں لگتا ہے جیسے نہ صرف یہ کہ صحرا میں کھلا ہوالا لہ ہے بلکہ بھینسوں میں گھر اہوالالہ بن جاتا ہے۔ کوئی قدر نہیں وہ اپنی بد بو سے لالے کی خوشبو پر غالب آنے کی کوشش کرتی ہیں۔ چنانچہ آپ کی زندگی کی کامیابی کا آخری فیصلہ نیت پر ہی ہو گا اور پہلا فیصلہ ہے جس نے آخری فیصلہ بننا ہے۔ بہت سے خطوط میں میرے سامنے یہ واقعات پیش ہوتے رہتے ہیں ۔ ایک ایسا خاندان ہے جس کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں ۔ ماں نے بھی مجھے خط لکھا اُس کے بیٹے نے خود بھی خط لکھا کہ ہماری زندگی عجیب اجیرن بن گئی ہے کہ کچھ سمجھ نہیں آتی کہ ہم کیا کریں۔ بڑی چاہت سے ایک لڑکی کو گھر لائے تھے اس خیال سے کہ بزرگوں کی اولاد ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کی اولاد ہے اور ایسا خاندان ہے جو جماعت میں معروف ہے لیکن لڑکی ایسی دنیا پرست ہے کہ جب بھی میں دین کی خاطر قربانی کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ کوئی چندہ دینے کی کوشش کرتا ہوں تو گھر میں ایک جہنم بن جاتی ہے یوں لگتا ہے کہ گھر میں سکون کو آگ لگا دی گئی ہے بچوں کے سامنے بولتی ، گند بکواس کرتی ۔ ہر وقت یہ طعنے دیتی کہ مولویوں کے پلے میں کہاں پڑ گئی ۔ نہ عقل نہ سمجھ ۔ اپنے بچوں کی بھلائی اپنے ہاتھوں سے جماعت کے نام پر پھینکتے چلے جا رہے ہو اور پتہ ہی کوئی نہیں کہ اپنا بھی کوئی حق ہے وہ لکھنے والے لکھتے ہیں کہ جو کچھ خدا نے دنیا کی نعمتیں مجھے دی تھیں وہ ساری میں نے اپنی اولاد کو بھی دیں۔ اپنی بیوی کو بھی دیں ان کے لئے کبھی کوئی کمی نہیں رکھی ، اس کے باوجود دل کی خساست کا یہ حال ہے اور دنیا داری کا یہ حال ہے کہ دین کی خاطر معمولی قربانی بھی گوارا نہیں تو چونکہ یہاں دھوکا ہوا ہے۔ اس بیچارے کا نیت کا سفر درست تھا لیکن اس کے باوجود چونکہ ایک انسانی فیصلہ