خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 649
خطبات طاہر جلد ۱۰ 649 خطبه جمعه ۹ را گست ۱۹۹۱ء بھی ہو سکتی ہے اور وہ شادی حسن کی خاطر بھی ہو سکتی ہے لیکن وہ شادی دین کی خاطر بھی ہو سکتی ہے اس لئے تمہیں میری نصیحت یہ ہے کہ اپنی شادی دین کی خاطر کیا کرو۔ اب اس مضمون میں جو چار باتیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ ان پر اگر آپ مزید غور کریں تو اور پھیل جاتی ہیں اور یہ مضمون بہت زیادہ وسیع ہو جاتا ہے۔ کیونکہ شادی کے معاملے میں نیتوں کا سفر صرف لڑکا یا لڑکی نہیں کرتے بلکہ ان کے ماں باپ بھی کرتے ہیں ان کی بہنیں بھی کرتی ہیں ۔ ان کا معاشرہ بھی کرتا ہے اور یہ سفر بظاہر ایک لڑکی کی طرف ہو گا یا ایک لڑکے کی طرف ہو گا لیکن اس میں قافلہ شریک ہو جاتا ہے اور ہر ایک اپنے رخ کو دوسروں پر نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے گو قسم کی رسہ کشی شروع ہو جاتی ہے۔ والدہ چاہے گی کہ میرے مزاج اور میری مرضی کے مطابق بہو گھر میں آئے ۔ والد اپنی سوچ کے مطابق یہ کہے گا کہ مجھے تو اس قسم کی بہو چاہئے ۔ بہنیں بھائی کے لئے اپنا ایک تصور جمائے ہوئے ہوں گی اور بھائی ( کم سے کم ہمارے معاشرے میں ) بیچارا سب سے آخر پر آتا ہے، جس کی خواہشات جس کی تمنائیں خاندان کی چوکھٹ پر قربان ہونے کے لئے تیار رہتی ہیں اور والدین اکثر اپنی مرضی کو بیٹوں پر بھی ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں، بہنیں بھی ایسا کرتی ہیں لیکن لڑکیوں کے معاملہ میں تو حد سے زیادہ یہ زبردستی کی جاتی ہے اور ناحق بچی کے حق میں مداخلت کی جاتی ہے لیکن آگے پھر لڑکے کی اور لڑکی کی اپنی تمنائیں اور آرزوئیں ہیں وہ بھی مختلف ہو سکتی ہیں تو وہ بیماریاں ایک سے زائد ہیں اور ایک سے زیادہ جگہ جڑ پکڑتی ہیں۔ اب اس ساری صورتحال کو پیش نظر رکھ کر اس مثال کو میں بعض جگہ مزید واضح کرتا ہوں ۔ اس سے آپ کو معلوم ہوگا کہ بعد ازاں جب رشتوں میں خلل واقع ہوتے ہیں تو ان کا آغاز کیسے ہوا تھا۔ بعض عورتیں اپنی جہالت میں ہی سمجھتی ہیں کہ بہوایسی آنی چاہئے جس کو ہم جوتی کے نیچے رکھیں اور ہمیشہ اسکوز بر دستی تابع فرمان رکھیں اور وہ صرف خاوند کی خدمت نہ کرے بلکہ خاوند کے باپ کی بھی خدمت کرے، اس کی ماں کی بھی خدمت کرے، اس کی بہنوں کی بھی خدمت کرے اور پھر اس سے آگے قدم بڑھا کر وہ کہتی ہیں کہ بہو کے سارے خاندان کا فرض ہے کہ وہ ہمیشہ نیچے رہیں ، ان کو معلوم رہنا چاہئے اور یہ احساس ہمیشہ ان کے دل میں جاگزیں رہنا چاہئے کہ انہوں نے گر کر ہمیں بیٹی دی ہے اگر ہم نہ چاہتے تو ان کی بیٹی کو قبول نہ کرتے ۔ ہم نہ پوچھتے تو اور کس نے