خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 635 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 635

خطبات طاہر جلد ۱۰ نظر میں بھی محبوب ہوں ۔ صلى الله صلى الله 635 خطبه جمعه ۲ اگست ۱۹۹۱ء اس کے بعد یعنی التحيات لله والصلوات والطیبات کے بعد انسان کہتا ہے کہ السلام عليك أيها النبى ورحمة الله وبركاته - الســلام عـلـيـنـا وعلى عباد الله الصالحين کہ اے نبی ہم تجھ پر سلام بھیجتے ہیں۔ یہ سلام در حقیقت تحفے ہی کے رنگ ہیں پیش کیا جا رہا ہے کیونکہ خدا کو تحفے دینے کے بعد جو سب سے زیادہ محبوب ہستی ہمیں دکھائی دیتی ہے وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ہستی ہے اور اللہ کو تحائف پیش کرنے کے بعد سب سے زیادہ تحفے کا حق اگر کوئی وجود رکھتا ہے تو وہ آنحضرت ﷺ ہی کا وجود ہے۔ اس سلسلہ میں بعض لوگ نا سمجھی سے یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نعوذ باللہ حاضر ناظر ہیں اور حاضر ناظر کو مخاطب کیا جاتا ہے ۔ اگر یہ دلیل درست ہو تو پھر خدا حاضر ناظر نہیں رہے گا کیونکہ اسی تخاطب میں التحیات عليك يا الله نہیں کہا گیا بلکہ التحیات الله والصلوات والطيبات فرمایا گیا ہے، تو خدا غائب ہو گیا اور محمد رسول اللہ حاضر ہو گئے ۔ یہ مضمون تو بالکل ہی اکھڑ جائے گا، بے معنی ہو جائے گا اس لئے یہاں جو تخاطب ہے وہ اور معنی رکھتا ہے۔ بعض دفعہ حاضر کو عزت اور احترام کے نتیجے میں غائب کیا جاتا ہے اور غائب کو بھی عزت اور احترام کے نتیجے میں حاضر کیا جاتا ہے۔ آنحضرت کی جو ہم کہتے ہیں تو اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ غائب بھی ہیں مگر معزز بھی ہیں کیونکہ ”آں" کا لفظ اعزاز کے لئے پایا جاتا ہے لیکن یو۔ پی میں جب خطاب کرتے ہیں تو بعض دفعہ حاضر کو غائب کے طور پر یہ بتانے کے لئے خطاب کرتے ہیں کہ ہم آپ کی بہت عزت کرتے ہیں اور بعض دفعہ غائب کو عزت کی خاطر مخاطب کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ ہم کہتے ہیں کہ آپ نے یہ فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ کو آپ کہہ رہے ہیں حالانکہ آپ غائب ہیں تو یہ جو طرز تخاطب ہے یہ اسی معنی میں ہے کہ آنحضرت ملالہ کو عزت اور احترام کی خاطر آپ کہا جارہا ہے حالانکہ آپ غائب ہیں اور خدا حاضر ہے لیکن اُسے عزت اور احترام کی خاطر غائب کیا جا رہا ہے اور کلام کا یہ محاورہ دنیا کے ا ہر کلام میں ملتا ہے۔ پس خدا کے ساتھ اس کی عظمت اور شان کے پیش نظر حاضر ہوتے ہوئے بھی غائب کا خطاب ہے اور آنحضرت ﷺ کا خدا کے مرتبہ کے بعد دوسرے مرتبہ پر ذکر ہے لیکن غائب ہوتے ہوئے بھی مخاطب کا خطاب ہے اور اس سے زیادہ اس کے اور کوئی معنی نہیں ہیں نعوذ باللہ یہ صلى الله صلى الله ا صلى الله