خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 610 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 610

خطبات طاہر جلد ۱۰ 610 خطبہ جمعہ ۱۹ جولائی ۱۹۹۱ء ایک دعا فصلت حم السجدہ آیت ۳۰ میں درج ہے۔ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُ وا رَبَّنَا آرِنَا الَّذِيْنِ أَضَلْنَا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ نَجْعَلُهُمَا تَحْتَ أَقْدَا مِنَا لِيَكُونَا مِنَ الْأَسْفَلِينَ کہ جنہوں نے کفر اختیار کیا وہ دعا کریں گے کہ رَبَّنَا آرِنَا الَّذِيْنِ أَضَلْنَا اے خدا! وہ لوگ ہمیں دکھا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا ، ان کو ہمارے سامنے لا خواہ وہ بڑے لوگوں میں سے تھے خواہ وہ چھوٹے لوگوں میں سے تھے۔ جن تھے یا انس تھے نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ أَقْدَا مِنَا آج ہم ان کو اپنے پاؤں کے نیچے کچلیں گے لِيَكُونَا مِنَ الْأَسْفَلِينَ تا کہ وہ سب سے نیچے اور ذلیل لوگ دکھائی دیں۔ مراد یہ ہے کہ اس دنیا میں جب گندے اور ظالم بڑے لوگوں کی پیروی کی جاتی ہے تو قیامت کے دن کا عذاب انسان پر یہ کھول دے گا کہ دراصل وہ ذلیل ترین لوگ تھے جن کے پیچھے تم چلا کرتے تھے اور ذلیل ترین لوگوں کے پیچھے چلنے کے نتیجہ میں تمہیں یہ عذاب ملا ہے ۔ پس صرف انتقامی کارروائی کے طور پر ہی نہیں بلکہ ایک طبعی تمنا کے طور پر وہ خدا سے یہ التجا کریں گے کہ اے خدا! تو نے جو ایسے ظالموں کو ضرور ہم سے بڑھ کر عذاب دینا ہے تو ان کو ہمارے سامنے پیش کر ، ہمارے پاؤں تلے وہ کچلے جائیں تاکہ ان کو پتا چلے کہ وہ اس دنیا میں کسی قسم کے بڑے لوگ تھے اور حقیقت میں وہ سب سے رسوا اور سب سے ذلیل انسان تھے مگر ان کی لذتیں بھی انتظامی لذتیں ہی ہیں اور جہنم میں کوئی حقیقی خوشی اور تسکین کی بات ان کے لئے نہیں ہوگی ۔ پھر سورۃ الدخان آیت ۹ تاے امیں یہ ایک دعا بتائی گئی ہے: ا رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ إِنِّي لَهُمُ الذِّكْرَى وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوْا مُعَلَّم مَجْنُونَ (الدخان : ۱۳ تا ۱۵) یہ دعا اک ایسے زمانے سے تعلق رکھتی ہے جو ابھی آنے والا ہے۔ جو گزرا ہوا زمانہ نہیں ہے ے جو ابھی آنے والا ہے ۔ جو زرا ہوا زمانہ میں ہے بلکہ سورہ دخان سے یہ دعا لی گئی ہے اور اس کا مضمون یہ ہے کہ ایک ایسا وقت آئے گا جبکہ ایک خاص قسم