خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 602
خطبات طاہر جلد ۱۰ 602 خطبہ جمعہ ۱۹ جولائی ۱۹۹۱ء کرتے چلے چلے۔ جاتے ہیں اور روزانہ آپ کو خدا تعالیٰ یہ اطلاع دیتا ہے کہ میں نے تیری یہ دعا نا مقبول کر دی ہے، رد کر دی ہے اور پھر آپ رات کو اٹھتے اور پھر وہی دعا کرتے ہیں اور پھر اٹھتے ہیں اور پھر وہی دعا کرتے ہیں اور آپ پ کا کا اصرار اصرار ختم ہونے میں ہی نہیں آتا جبکہ ہر دفعہ خدا آپ کو مطلع فرما دیتا ہے کہ میں نے تیری دعا رد کر دی ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ دیکھو میں ایک بھکاری اور فقیر انسان ہوں فقیروں کا کام مانگنا ہے اور خدا ما لک ہے اس کا کام ماننا یا نہ ماننا ہے وہ اپنا کام کرتا چلا جا رہا ہے میں اپنا کام کرتا رہوں گا۔ یہ بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ اس بزرگ کو الہام ہوا کہ جاہم نے تیری تمام عمر کی دعائیں قبول کر لی ہیں ۔ تو بعض دعاؤں کا وفا سے تعلق ہوتا ہے بندے کا کام نہیں ہے کہ خدا سے کلام کا تعلق توڑلے یہ سب سے بڑی گستاخی ہے اگر ماں باپ بھی اپنے بچے کی کوئی بات نہ مانیں اور وہ روٹھ کر مانگنا چھوڑ دیں تو ماں باپ کو سخت تکلیف پہنچتی ہے اور وہ اسے ذاتی طور پر اپنی بے ادبی اور گستاخی سمجھتے ہیں ماں باپ کے مقابل پر بچے کا جو رشتہ ہے وہ ایک معمولی رشتہ ہے لیکن خدا کے مقابل پر بندے کا رشتہ تو بہت ہی عاجزی کا رشتہ ہے اس لئے ان باتوں کو سمجھیں اور خدا سے کلام کا تعلق تو رنے کا تصور بھی دل میں نہیں آنا چاہئے ۔ پس وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں یا نمازوں میں لطف نہیں آتا ان کو یہی نصیحت ہے کہ وہ بندگی کرتے چلے جائیں یقیناً خدا تعالیٰ ان کی دعاؤں کو کسی نہ کسی رنگ میں قبول فرمائے گا اور ہرگز بعید نہیں کہ ایک وفا شعار بندے کو آخر وہی جواب ملے جو اس بزرگ کو ملا تھا کہ ہم نے تیری ساری عمر کی دعائیں قبول کر لیں ۔ ایک دعا سورہ قصص آیت ۴۹ میں بیان ہوئی ہے فرمایا: فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا لَوْلَا أُوتِيَ مِثْلَ مَا أُوتِيَ مُوسَى أَوَلَمْ يَكْفُرُوا بِمَا أُوتِيَ مُوسَى مِنْ قَبْلُ قَالُوا سِحُرْنِ تَظْهَرَا وَقَالُوا إِنَّا بِكُلِّ كَفِرُونَ اس میں بد نصیب منکر قوموں کی نفسیات بیان ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جب ان کے پاس حق آگیا جو ہماری طرف سے تھا تو انہوں نے کہا کیوں نہ اس شخص کو وہ کچھ دیا گیا جو کچھ موسیٰ کو دیا گیا یعنی انبیاء کے ان انبیاء کے انکار کرنے والے ہمیشہ اسی قسم کے بہانے تراشتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے یہ مطالبے کرتے ہیں کہ جو اس سے پہلے دیا گیا جس رنگ میں اس سے تو نے کلام کیا ، جس رنگ میں اس سے