خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 580
خطبات طاہر جلد ۱۰ 580 خطبہ جمعہ ۱۲ جولائی ۱۹۹۱ء کنارے پر پہنچ گئی ہونگی بہت سے ایسے ہیں بلکہ اکثر فرعون وہی ہیں جن کی لاشیں ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دی گئی تھیں تو خصوصیت کے ساتھ اس فرعون کی دعا کے نتیجے میں جب بدن کی نجات کا ذکر ہے تو اس سے میں نے یہ استنباط کیا کہ ایسی زندگی مراد ہے جو روح سے عاری ہو جیسے انگریزی میں Zombie کہا جاتا ہے بعض ایسے لاش نما انسان ہوتے ہیں جن کی زندگی روحانیت سے کلیۂ عاری اور روح سے عاری ہوتی ہے انگریزی میں لفظ Zombie تو ظاہری روح کے بغیر زندگی کا تصور پیش کرنا ہے لیکن نُنجِيكَ بِبَدَنِكَ میں جو مضمون ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ہم تجھے زندگی تو دے دیں گے مگر نجات نہیں دیں گے اور روحانیت سے عاری زندگی ہوگی۔ اس ضمن میں باقی آیات جن میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کے غرق کا ذکر ہے کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ سوائے ایک موقع کے ہر دوسری جگہ بنواسرائیل کو نجات دینے اور ان کی پیروی کرنے والے ان کے پیچھے آنے والے فرعون کے لشکر کے غرق کا ذکر ہے لیکن ایک جگہ خود فرعون کے غرق کا بھی ذکر ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس موقع کے ساتھ اس مضمون کا کہیں تضاد تو نہیں جو میں بیان کر رہا ہوں ۔ سورہ بقرہ میں ہے کہ:۔ وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنْجَيْنَكُمْ وَأَغْرَقْنَا الَ فِرْعَوْنَ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ (بقرہ:۵۱) یعنی ہم نے آل فرعون کو غرق کر دیا اور تم دیکھ رہے تھے پھر سورہ انفال میں بھی وَ اغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ کا ذکر ہے پھر سورۃ الشعراء میں۔ وَأَنْجَيْنَا مُوسَى وَمَنْ مَّعَهُ أَجْمَعِينَ ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ (الشعراء : ۶۶: ۶۷) ہم نے دوسروں کو غرق کر دیا کا ذکر فرمایا۔ اسی طرح الشعراء الزخرف میں یہی مضمون ہے مختلف جگہ جہاں بھی فرعون اور اس کے ساتھیوں کے غرق کا ذکر ملتا ہے سوائے ایک سورہ الاسراء کے باقی جگہ صرف فرعون کے ساتھیوں یا فرعون کی قوم کے غرق کا ذکر ہے۔ سورۃ الاسراء میں یہ ذکر ہے فَأَغْرَقْنَهُ وَمَنْ مَّعَهُ جَمِيعًا (بنی اسرائیل : ۱۰۴) اور ہم نے فرعون کو اور اس کے ساتھ جو بھی تھے سب کو غرق کر دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اس کو غرق کر دیا دوسری جگہ فرماتا ہے جب غرق قریب آیا اور اس نے دعا کی تو ہم نے اس سے بدنی نجات کا وعدہ کر لیا تو کیا ان دونوں کے درمیان تضاد ہے یا کوئی مفاہمت کی صورت ممکن ہے غرق کا لفظ جب میں نے ڈکشنری میں دیکھا تو معلوم ہوا کہ ہر جگہ جس کو ہم اردو میں ڈوبنا کہتے ہیں بالکل وہی مفہوم عربی میں غرق کا پایا جاتا ہے