خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 559
خطبات طاہر جلد ۱۰ 559 خطبہ جمعہ ۱۵ جولائی ۱۹۹۱ء سوال یہ ہے کہ اس کا حج کے مضمون سے کیا تعلق ہے۔ وہ تعلق یہ ہے کہ وہ انسان جو اس دنیا کا ہو چکا ہو اور دنیا ہی کے لئے جیتا ہو دنیا ہی کے لئے مرتا ہو وہ جب عبادت کے معراج پر بھی پہنچتا ہے تو اس کی دعا دنیا طلبی کی دعا ہی ہوتی ہے۔ پس فرمایا کہ یہ نہ سمجھو کہ حج میں جو لوگ میرے قریب آئے جو اپنی عبادت کے معراج کو پہنچے وہ سب کے سب ایسے ہیں جو میری تمنا لے کر آئے تھے۔ کچھ بد نصیب ان میں سے ایسے بھی ہیں جو دنیا کی آرزوئیں لے کر یہ جان جوکھوں کا سفر اختیار کرنے والے تھے اور آخر پر جب وہ خانہ کعبہ کا طواف کرتے رہے تو مجھ سے دنیا ہی مانگتے رہے۔ فرمایا میں ان کو دنیا دوں گا لیکن پھر آخرت میں ان کے لئے کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ یہاں جو سزا کا پہلو ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ عبادت میں جب ایک انسان معراج کو پہنچتا ہے تو خدا قریب آچکا ہوتا ہے۔ اس وقت خدا کو نہ مانگنا اور دنیا کی طرف جھک جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ بالآخر دنیا ہی کی عبادت کرتے ہیں ۔ پس دنیا مانگنا منع نہیں ہے مگر جس پس منظر میں دنیا مانگنے کا نقشہ بیان ہوا ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ وہاں جا کر وہ لوگ اپنے اندرونے کو ننگا کر دیتے ہیں۔ پس خدا بہتر جانتا ہے کہ کتنے لکھوکھہا حج کرنے والے ہیں جو دنیا طلبی کی تمنا لئے ہوئے حج کرتے ہیں لیکن یہاں اس مضمون کا تعلق صرف حج ہی سے نہیں بلکہ ہر عبادت سے ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نصیحت فرماتا ہے وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَقُولُ رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرہ:۲۰۲) لیکن کچھ ایسے بندے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اے خدا ہمیں دنیا کی اچھی چیزیں بھی عطا فرما اور آخرت کی اچھی چیزیں بھی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی چیزیں ہمیں اپنی طرف اس طرح مائل نہ کر لیں کہ ہم ان کے نتیجے میں تجھے بھول جائیں اور بالآخر آگ کے عذاب کا سزاوار ٹھہریں۔ پس دنیا کی اچھی باتیں طلب کرتے ہوئے ساتھ احتیاطا یہ دعا بھی سکھا دی گئی کہ وہ باتیں بھی تمہیں ملیں گی اور آخرت کی اچھی چیزیں بھی ملیں گی مگر یاد رکھنا کہ دنیا کی اچھی چیزوں میں گم نہ ہو جانا کیونکہ اس کے نتیجے میں پھر بھی یہ خطرہ رہے گا کہ تم خدا کے عذاب کے سزاوار ٹھہرو۔ یہ دعا سورة البقرہ آیت ۲۰۲ سے لی گئی تھی ۔ ایک دوسری مغضوب اور ضالین کی دعا یہ ہے جو سورہ نساء کی آیت ۷۸ اور ۷۹ سے لی گئی ہے اس میں وہ یہ دعا کرتے ہیں ۔