خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 52
خطبات طاہر جلد ۱۰ 52 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۹۱ء نے ایک لمبے عرصہ تک ان کو بڑی بڑی دولتوں کا مالک بنائے رکھا ہے اور تو اور سوڈان ان کا ہمسایہ ملک ہے۔ وہ مسلمان بھی ہیں لیکن فاقوں کا شکار ہورہے ہیں لیکن مالدار عرب ملکوں میں کوئی حرکت صلى الله پیدا نہیں ہورہی۔ کسی کو خیال نہیں آیا کہ حمد مصطفی ﷺ کے دین کی امتیازی شان کیا ہے۔ جب آپ کی سیرت کی باتیں کی جائیں تو خدا کی محبت کے بعد سب سے زیادہ ذکر بنی نوع انسان کی محبت اور غریب کی محبت کا آتا ہے جو سیرت محمد مصطفی ﷺ کے روشن ہیولے کی طرح ابھرتی ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا نام انسان کے ذہن میں آئے اور غریبوں کے ساتھ آپ کی ہمدردی اور ان کے ساتھ تمام عمر شفقت اور رحمت کا سلوک اچانک انسان کی نظر کو خیرہ نہ کردے ۔ محمد مصطفی ﷺ کی روشنی میں غریب کی ہمدردی کی روشنی شامل ہے۔ ایک موقع پر آنحضرت ﷺ نے اصلى الله عليسة صلى الله فرمایا کہ اگر تم نے مجھے تلاش کرنا ہو تو غریبوں میں تلاش کرنا ۔ قیامت کے دن میں درویشوں میں ہوں گا، غریبوں میں ہوں گا اور فرمایا ان کا خیال کرنا کیونکہ تمہاری رونقیں اور تمہاری دولتیں غریبوں کی وجہ سے ہیں۔ ان ہی کی محنتیں ہیں جو رنگ لاتی ہیں اور پھر وہ تمہاری دولتوں میں تبدیل ہوتی ہیں۔ کم سے کم اتنا تو کرو کہ ان سے شفقت اور محبت اور ہمدردی کا سلوک کرو۔ پس حضرت محمد ﷺ بلا شبہ تمام کا ئنات میں سب سے زیادہ غریبوں کے ہمدرد تھے اور آپ کے نام کے صدقے خدا سے دوستیں پانے کے بعد اور دولتوں کے پہاڑ حاصل کرنے کے بعد اپنے ہمسایہ ملکوں میں غربت کے اتھاہ گڑھوں کی طرف دیکھنا اور دل رحم کے جذبے سے مغلوب نہ ہو جانا یہ کوئی انسانیت نہیں ہے۔ اگر یہ مسلمان ممالک دعا کی طرف متوجہ رہتے اور بنی نوع انسان کی ہمدردی کی طرف متوجہ رہتے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ آج اس بڑے خوفناک ابتلاء میں مبتلا نہ کئے جاتے۔ پس ہم اپنی غربت کے باوجود ہر نیکی کے میدان میں ان کے لئے نمونے دکھاتے ہیں۔ اس میدان میں بھی ہم نمونے دکھائیں گے۔ پس دعائیں کریں اور ان کو دعاؤں کی تلقین کریں۔ صدقے دیں اور ان کو صدقوں کی تلقین کریں ۔ صبر کریں اور ان کو صبر کی تلقین کریں کیونکہ قرآن کریم کی سورتوں سے پتا چلتا ہے کہ آخری زمانے میں وہی لوگ فتح یاب ہوں گے کہ جن کے متعلق فرمایا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ (البلد : ۱۸) کہ وہ صبر کی تلقین صبر کے ساتھ کیا کرتے تھے یا کیا کریں گے اور رحمت کی تلقین رحمت کے ساتھ کرتے تھے۔ پس میں نے فیصلہ کیا ہے کہ دس ہزار پاؤنڈ جو ایک بہت معمولی قطرہ ہے جماعت کی طرف سے افریقہ کے