خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 551
خطبات طاہر جلد ۱۰ 551 خطبه جمعه ۲۸ جون ۱۹۹۱ء مضمون کو بیان کرتا رہا ہوں ۔ اس وقت میں دہرا۔ دہرانے کی نیت سے کھڑا نہیں ہوا۔ میں مختصراً آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں یا رزق ہے، اقتصادیات کا مضمون ہے جس نے انسانوں کو ہر طرف سے گھیرا ہوا ہے یا بادشاہتیں ہیں یعنی سیاست ہے اور یا پھر عبادت ہے، مذہب کی دنیا ہے۔ ان تین مضامین میں انسان کی تمام دلچسپیاں بیان کر دی گئی ہیں۔ اور یہی تین ہیں جو انسانی زندگی پر ہر لحاظ سے حاوی ہیں تو فرمایا کہ تم یہ دعا کیا کرو کہ اے رب ہمیں لوگوں کا محتاج نہ بنا۔ یہ مراد ہے اپنا محتاج رکھنا ۔ ہم غیروں کی محتاجی سے تیری طرف بھاگتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ اصل رزق تیرے ہاتھ میں ہے۔اس لئے دنیا کے بس میں نہ ڈالنا، اپنی طرف سے رزق عطا فرمانا۔ دنیا کے بادشاہ ظالم ہوتے ہیں ۔ ہم ان کے مقابل پر بے بس ہوں گے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ تو اصلی بادشاہ ہے تیرے ہاتھ میں ان بادشاہوں کی بھی گردنیں ہیں ۔ اس لئے ان کے ظلم سے ہم تیری پناہ میں آتے ہیں ۔ یہ ویسی ہی بات ہے جیسے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو جب کسری کے نمائندے نے یہ اطلاع دی کہ تم تین دن کے اندر اندر میری عليه طرف آؤ اور اپنی حرکتوں سے تو بہ کرو ورنہ میں تمہیں قتل کروادوں گا۔ تو آنحضرت ﷺ نے اس پیغام دینے والے سے کہا کہ مجھے تھوڑی سی مہلت دو۔ میں دعا کر کے معلوم کروں کہ اللہ تعالیٰ کیا چاہتا ہے۔ دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو رات کو خبر دی اور اس خبر کو آپ نے یوں بیان فرمایا کہ جاؤ واپس چلے جاؤ۔ تمہارے بادشاہ کو میرے بادشاہ نے رات ہلاک کر دیا ہے (حوالہ جو میرا مالک ہے اور میرا رب ہے اور میرا بادشاہ ہے اس نے تمہارے بادشاہ کو رات ختم کر دیا ہے ۔ وہ واپس آ گیا اور معلوم ہوا یعنی دیر کے بعد یہ خبر وہاں پہنچی کیونکہ ایران سے چلتی ہوئی یمن کی طرف پہنچتے پہنچتے دیر لگتی تھی کہ عین اسی رات جس رات آنحضرت ﷺ کو یہ نظارہ دکھایا گیا خود کسری کے اپنے بیٹے نے اپنے باپ کو اس کے ظلموں کی وجہ سے قتل کر دیا۔ صلى تو یہ معنے ہیں۔ مَلِكِ النَّاسِ آپ اگر یقین کریں کہ وہ ملک ہے تو وہ یہ طاقت رکھتا ہے کہ دنیا کے بڑے سے بڑے بادشاہ سے آپ کو بچائے لیکن یقین کی بھی ضرورت ہے اور اس کی ملکیت کے اندر رہنے کی بھی ضرورت ہے آپ اس کی ملکیت سے نکل کر دنیا کی ملکیت میں زندگی بسر کریں اور جب تکلیف اٹھائیں تو اس کی طرف دوڑیں اس وقت یہ دعا صادق نہیں آئے گی ۔ حضرت محمد مصطفی علی کے لئے سوائے خدا کے کوئی مَلِكِ نہیں تھا۔ اس لئے آپ کی یہ التجا سنی گئی اور اللہ