خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 539
خطبات طاہر جلد ۱۰ 539 خطبه جمعه ۲۸ جون ۱۹۹۱ء تَجْعَلُنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا اے خدا ہمیں ان لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب نہ بنا جنہوں نے کفر کیا یہاں لِلَّذِينَ كَفَرُوا کہہ کر اس بات کو کھول دیا کہ وہ لوگ بری الذمہ نہیں ہیں جو ٹھو کر کھا جاتے ہیں کیونکہ انکار ان کی فطرت میں ہے تبھی وہ ٹھوکر کھا جاتے ہیں ۔ پہلے کفر کی حالت ان کے اندر موجود ہے اگر وہ نہ ہوتی تو وہ ٹھوکر نہ کھاتے لیکن اس کے باوجود ہم اس بات میں ملوث نہیں ہونا چاہتے ۔ ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ ہماری وجہ سے کوئی ظالم ٹھو کر کھا جائے ۔ دوسرا مضمون فتنہ کا یہ ہے کہ دشمن کو ہمیں عذاب میں مبتلا کرنے کا موقعہ عطا نہ فرما۔ موقعه عطا نہ فرما۔ قرآن کریم ان معنوں میں بھی لفظ فتنہ استعمال فرماتا ہے ۔ اِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا (البروج: اا ) وہ لوگ جنہوں نے مومنوں کو فتنے میں ڈالا اور پھر تو بہ نہیں کی۔ پس فتنہ دو طرفہ ہے مومن کی طرف سے فتنہ یہ ہے کہ کوئی شخص ٹھو کر کھا جائے اور خدا کی راہ سے ہٹ جائے۔ کافر کا فتنہ یہ ہے کہ زبر دستی عذاب میں مبتلا کر کے کسی کو خدا کی راہ سے ہٹائے۔ نتیجہ فتنے کا ایک ہی ہے اگر چہ مختلف سمتوں سے مختلف شکلوں میں فتنہ ظاہر ہوتا ہے۔ مومن ظلم اور تعدی کر کے فتنے کا موجب نہیں بنتا بلکہ اپنی نا اہلی کی ، یا غلطیوں کی وجہ سے فتنے کا موجب بن جاتا ہے۔ نتیجہ یہی ہے کہ کوئی دیکھنے والا خدا کی راہ سے دور ہو جاتا ہے۔ کا فراس قسم کے فتنے میں مومن کو مبتلا کرتا ہے کہ جسمانی عذاب دے کر اس کو خدا کی راہ سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ وجہ سے یا غلطیوں پس آج کے دور میں یہ دعا دنیا کے ہر حصے میں برابر اطلاق پارہی ہے کچھ ایسی جگہیں ہیں جہاں غیروں کو احمدیوں کی طرف سے فتنہ در پیش ہے ان کی بداعمالیوں یا کمزوریوں کی وجہ سے غیر فتنے میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ بعض ایسے ملک ہیں جہاں احمدیوں کو غیروں کی طرف سے اذیت اور عذاب کا فتنہ در پیش ہے پس دونوں لحاظ سے یہ دعا ایک عالمگیر دعا ہے اور ہر جگہ اپنے اپنے مضمون کے مطابق اثر دکھائے گی پس میں چاہتا ہوں کہ احمدی خصوصیت کے ساتھ اس دعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہیں۔ پھر یہ عرض کی گئی۔ وَاغْفِرْ لَنَا رَ بَّنَا اے خدا ہمیں بخش دے إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ یقیناً تو بہت ہی عزت والی طاقت رکھتا ہے۔ لفظ الْعَزِيزُ سمجھنے کے لائق ہے اس میں طاقت بھی ہے اور عزت بھی ہے جبر نہیں ہے بلکہ ایسی طاقت ہے جس کے نتیجے میں طاقتور معزز ہوتا ہے اور طاقت کا بے محل استعمال نہیں کرتا اور لاز ما غالب آتا ہے پس الْعَزِيزُ کا ترجمہ محض غالب یا طاقت