خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 537 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 537

خطبات طاہر جلد ۱۰ 537 خطبه جمعه ۲۸ جون ۱۹۹۱ء کہ خدا کی طرف تو تم نے بہر حال لوٹ کر آنا ہے خواہ کافر بنو یا مومن بنو، نیک ہو یا بد ہوآخر وہاں جائے بغیر چارہ نہیں ہے۔ لیکن وہ لوگ جو از خود پہلے خدا کی طرف حرکت کرتے ہیں وہی ہیں جو مقبول ہوتے ہیں وہی ہیں جو اس کو پالیتے ہیں تو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے غلاموں نے یہ دعا کی اے خدا ہمارا تجھ پر تو کل ہے اور ہم تیری ہی طرف آرہے ہیں اور جانتے ہیں کہ بالآخر تیری ہی طرف جانا ہے اسلئے جو لوگ طوعی طور پر خدا کیلئے سفر اختیار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اپنی راہوں پر چلنے کی توفیق عطا فرماتا ہے اور طاقت بخشتا ہے کہ بالآخر وہ اس کو پالیں ۔ پھر یہ دعا ہے رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (المتحن : ۲) اے ہمارے رب ہمیں ان لوگوں کے لئے فتنہ نہ بنا جنہوں نے انکار کر دیا۔ فتنہ سے دو باتیں مراد ہیں۔ ایک یہ کہ ہم کسی کے لئے ٹھوکر کا موجب نہ بنیں ہم ایمان لے آئے ہم تجھ پر تو کل کرتے ہیں ہم تیری طرف آتے ہیں لیکن راہ میں ایسی ٹھوکریں نہ کھائیں کہ کوئی اور دیکھنے والا بھی ٹھو کر کھا جائے اور ہماری وجہ سے کسی ابتلا میں پڑ کر وہ راہ راست کو کھو دے۔ یہ ایک بہت ہی اہم دعا ہے ہر انسان کو اپنے اعمال کی اس طرح نگرانی بھی کرنی چاہئے اور دعا بھی کرنی چاہئے کہ میری وجہ سے کوئی انسان ٹھو کر میں مبتلا نہ ہو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مرتبہ اس مضمون کو یوں بیان فرمایا کہ ایک ایسا شخص جو کسی کے لئے ٹھوکر کا موجب بنتا ہے بہتر تھا کہ اس کی ماں نے اسے جنم نہ دیا ہوتا کیونکہ وہ شخص بھی پکڑا جاتا ہے اس لئے دعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے رہنا چاہئے ۔ امریکہ کے اس سفر کے دوران بارہا مجھ سے بعض دوستوں نے یہ ذکر کیا کہ پاکستان سے آنے والے اس طرح کرتے ہیں اور اس طرح کرتے ہیں اور ہمارے لئے وہ ٹھوکر کا موجب بن جاتے ہیں۔ ان کو تو میں یہ سمجھاتا ہوں کہ اسلام کسی ایک ملک کا اسلام نہیں ہے ۔ اسلام تو تمام دنیا کا اسلام ہے۔ آپ نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کو اس لئے نہیں مانا کہ آپ کا تعلق ہندوستان سے تھا آپ نے تو اس لئے ان کو مانا ہے کہ آپ کا تعلق حضرت محمد ﷺ سے تھا۔ ایک ایسے رسول سے تعلق تھا جس کے متعلق قرآن کریم نے بیان فرمایا کہ لا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ (النور: ۳۶) ایسا نور ہے جو نہ مشرق کا ہے نہ مغرب کا ہے دونوں میں سانجھا ہے اور پھر فرمایا کہ وہ رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ صلى الله