خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 522
خطبات طاہر جلد ۱۰ 522 خطبه جمعه ۲۱ جون ۱۹۹۱ء میرے پاس بھی آگیا اور کمرے میں داخل ہوا تو باچھیں کھلی ہوئی مسکراتا ہوا ہنستا ہوا بہت خاص خوشی کے مزاج کے ساتھ داخل ہوا اس کا نام نصیر تھا۔ اس کو اس حال میں دیکھ کر میں نے کہا۔ نصیر! کیا بات رہے آج تم نے بہت کچھ پالیا ہے کہ تم اس طرح خوش ہو رہے ہو۔ اس نے کہا یہی سوال حضرت خلیفۃ مسیح الثالث نے بھی مجھ سے کیا تھا اور ان کو بھی میں نے یہی جواب دیا تھا کہ آج ہم نے خدا کی راہ میں سب کچھ کھو دیا ہے۔ یہ خوشی ہے۔ چاولوں کی ملیں اور کار خانے تھے۔ خدا کے فضل سے بڑا کھاتا پیتا گھر تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سارا دن ٹرک لدلد کے بوریاں ڈھوتے رہے ( ڈھونا پنجابی میں سامان لاد کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کو کہتے ہیں ) اور کسی نے بھی پوچھا نہیں اور نہ پولیس آئی اور نہ کسی کو پرواہ ہوئی یہاں تک کہ سب کچھ صاف ہو گیا۔ کارخانہ بھی بر باد دیوار میں منہدم کر دی گئیں اور میں اب اس لئے خوش ہوں کہ بہت مزے میں ہوں کہ اب سب کچھ اللہ نے پھر دوبارہ دینا ہے۔ ہم نے تو جو کچھ تھا وہ سب اللہ کے سپرد کر دیا ہے۔ پر وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ کا یہ مطلب ہے ۔ اس کے برعکس وہ لوگ جن میں ایمان کی کمی صلى الله ہوتی ہے ان کو آپ دیکھیں چھوٹا سا نقصان پہنچے تو جان کا زیاں کر بیٹھتے ہیں ۔ وہ اس غم میں گھل گھل کر اپنی جان ضائع کر دیتے ہیں تو کتنا فرق کتنے عظیم الشان بندے ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ کے غلام ہیں اور آپ ہی کے تربیت یافتہ ہیں۔ خدا تعالیٰ ان کے متعلق فرمارہا ہے۔ اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ دیکھو کیسے شاندار بندے ہیں میرے جب وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے تو پھر کسی اور کو رب نہیں مانتے ۔ یہاں ربنا اللہ میں یہ مضمون ہے ۔ رب کا مطلب ہے پرورش کرنے والا ، سب کچھ عطا کرنے والا ، زندگی کے گزارے دینے والا ، ادنیٰ حالتوں سے ترقی دے کر اعلیٰ حالتوں کی طرف لے جانے والا ۔ رب تو خدا کو کہیں مگر دنیا کی طاقتوں سے ڈر جائیں اور ان کو رب سمجھ لیں خدا فرماتا ہے ایسا نہیں ہوتا۔ میرے بندے وہی ہیں جو میرے رب کہنے کے بعد پھر میرے ہو رہتے ہیں اور ان کی نشانی کیا ہے فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ دنیا کا کوئی خوف ان پر غالب نہیں آسکتا۔ بے خوف ہو جاتے ہیں اور جو بھی نقصان پہنچ جائے ان کو غم نہیں ہوتا۔ ہمیشہ سکنیت کی حالت میں زندگی بسر کرتے ہیں ۔ کتنا عظیم الشان انسان ہے جو قرآن کریم پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اسی لئے اس دعا کو اللہ تعالیٰ نے الانسان کی دعا کے طور پر پیش فرمایا کہ ابھی ان کی صفات بیان ہو رہی ہیں