خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 509
خطبات طاہر جلد ۱۰ 509 خطبه جمعه ۲۱ جون ۱۹۹۱ء آپ کی بیوی بھی آپ کو چھوڑ کر الگ ہوگئی تھی ۔ ان تمام واقعات کا تو قرآن نے ذکر نہیں فرمایا لیکن جس رنگ میں اس دعا کے بعد خدا تعالیٰ حضرت ایوب سے مخاطب ہوا اس سے پہلی بات تو یہ پتہ لگتی ہے کہ ہجرت کا حکم تھا۔ ان حالات میں مزید ایسی جگہ میں ٹھہرنا مناسب نہیں ہے ۔ دوسرا وعدہ یہ تھا کہ تمہیں ہم ایک ٹھنڈی چشموں والی جگہ میں پہنچادیں گے اور وہ ایسے چشمے ہیں جن سے تم اپنے جسم کو دھو لو تو شفاء نصیب ہوگی ۔ یہاں بارڈ سے مراد ٹھنڈ پیدا کرنے والا پانی ہے۔ ٹھنڈا پانی نہیں کیونکہ تحقیق کرنے سے جہاں تک مجھے معلوم ہوا ہے حضرت ایوب کو چونکہ خارش کی جسمانی بیماری تھی اور جسم پر ناسور پیدا ہو گئے تھے اس لئے گندھک کے چشموں والے علاقے کی طرف آپ کی ہجرت ہوئی ہے جو گرم ہوتا ہے لیکن جب ایک انسان کا جسم سوزش سے جل رہا ہو اور سخت بے قرار ہو تو گرم پانی جو اسے شفا دیتا ہے تو انسان ہمیشہ یہ کہتا ہے کہ مجھے ٹھنڈ پر گئی۔ چین نصیب ہوا۔ تو یہاں بارڈ سے مراد ٹھنڈا پانی نہیں بلکہ تسکین بخش پانی ہے ۔ صحت عطا کرنے والا پانی ہے۔ تبھی میں نے اس کا ترجمہ ٹھنڈا پانی نہیں کیا تھا بلکہ یہ کہا تھا کہ صحت بخش پانی ۔ چنانچہ پینے کے لئے بھی اچھا تھا لیکن پینے کے لئے ضروری نہیں کہ وہی پانی استعمال ہوا ہو کیونکہ ہم نے ایسے علاقوں میں دیکھا ہے جہاں بہت ہی گرم پانی کے ابلتے ہوئے چشمے ہوتے ہیں ان میں جلد کے مریض جا کر نہاتے ہیں اور صحت یاب ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی بہت ہی ٹھنڈے پانی کے چشمے بھی ہوتے ہیں اتنا ٹھنڈا پانی کہ بعض دفعہ اس میں ہاتھ رکھا نہیں جاتا۔ کلوا مناهلی میں اس قسم کے بہت چشمے ہیں ۔ بچپن میں مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ہمیں وہاں لے کر گئے اور وہاں اتنا گرم پانی تھا کہ اس میں ہاتھ ڈالنا ناممکن تھا اور ساتھ ہی ٹھنڈے پانی کا چشمہ اتنا ٹھنڈا تھا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے انعام مقرر کیا کہ جو بچہ ایک منٹ ہاتھ رکھے گا میں اسے اتنا انعام دوں گا لیکن کوئی نہیں رکھ سکا۔ تو وہ ایسی جگہ تھی جہاں معنوی طور پر بھی بارڈ پانی تھا اور ظاہری طور پر بھی ساتھ بارڈ پانی موجود تھا۔ ایک پانی شفاء کے لئے بارِد تھا اور ایک پینے کے لئے ٹھنڈ پیدا کرتا تھا اور اچھا پانی تھا۔ پھر فرمایا: وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَذِكْرَى لِأُولِي الْأَلْبَابِ (ص: ۴۴) اور ہم نے اس کے گھر والے بھی اس کو واپس کر دیئے۔ معلوم ہوتا ہے ہجرت کے وقت وہ ساتھ نہیں گئے ۔ جب ان کے حالات بہتر ہوئے تو پھر رفتہ